خطبات محمود (جلد 29)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 397 of 477

خطبات محمود (جلد 29) — Page 397

1948ء 397 خطبات محمود بہت بڑی تبدیلی محسوس کریں گے۔ بسا اوقات مرض کی ترقی اس وجہ سے ہوتی ہے کہ لوگ اُس کے متعلق غور غور کرنے کے عادی نہیں نہیں ہوتے۔ ہوتے۔ اگر اگر انہی انہیں سوچنے سوچنے کا موقع موقع دیاجاے دیا جائے تو قدرتی قدرتی طور طور پر پر اُن میں بیماری کا احساس پیدا ہو جاتا ہے اور پھر اس احساس سے ان کی توجہ علاج کی طرف پھر جاتی ہے۔ اور سے ان بے شک ان کی تقاریر میں بعض باتیں لغو بھی ہوں گی ، بعض ناتجربہ کاری پر دلالت کرتی ہوں گی ، بعض گی، گی، مجنونانہ بڑ سے زیادہ وقعت نہیں رکھیں گی ، بعض یونہی بلند آہنگی کے خیالات سے لبریز ہوں گی مگر کم سے کم اس کے نتیجہ میں اُن کے دل کی بھڑاس نکل جائے گی ، ان کے دلوں کے شبہات دور ہو جائیں گے، ان کے قلوب کے وساوس جاتے رہیں گے۔ اور وہ یہ نہیں کہہ سکیں گے کہ ہمیں اپنے خیالات پیش کرنے کا موقع نہیں دیا جاتا۔ وہ سمجھیں گے کہ ہم نے باتیں کیں اور جماعت نے ہماری باتیں سنیں لیکن ان کو قابلِ عمل نہ سمجھایا ان پر عمل کرنا اپنی طاقت سے بالا خیال کیا یا کسی تجویز کو موقع کے مناسب نہ سمجھا۔ یہ نہیں کہ نا واقفیت کی وجہ سے انہوں نے ہماری باتوں کی طرف توجہ نہیں کی۔ اس ذریعہ سے جماعت کے اندر بیداری کا قدرتی طور پر احساس پیدا ہو جائے گا ۔ بلکہ اس خطبہ کے ذریعہ میں دوستوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ ان میں سے جس شخص کے ذہن میں بھی ایسی تجاویز آئیں وہ مجھے بھی لکھے کہ جماعتی ترقی کے لیے میرے نزدیک ان ان تجاویز پر عمل کرنا ضروری ہے۔ اس طرح انہیں صرف دوسروں کی بیماری کا ہی نہیں اپنی بیماری کا بھی احساس ہو جائے گا۔ کیونکہ جب انسان دوسروں کے متعلق کوئی بات بیان کرتا ہے اور خود اس میں خامی موجود ہو تو دوسرے لوگ کہتے ہیں کہ پہلے اپنی تو اصلاح کرو اور اس طرح اُس کی بھی اصلاح ہو جاتی ہے۔ مجھے یاد ہے ایک دفعہ ہماری مجلس شورای میں ایک شخص نے دھواں دار تقریر کی جس میں کہا کہ اصل چیز یہ نہیں کہ چندے کی نسبت کو بڑھایا جائے بلکہ اصل چیز یہ ہے کہ ہر شخص سے چندہ وصول کیا جائے ۔ اگر چندہ کی وصولی کی باقاعدہ کوشش کی جائے اور تمام افراد سے مقررہ چندہ وصول کیا جائے تو یہ ضرورت ہی پیش نہیں آسکتی کہ اس کی نسبت کو بڑھایا جائے ۔ غرض بڑی لطیف اور مؤثر اور دانشیں تقریر اس نے کی جس کا جماعت پر بڑا اثر ہوا ۔ جب وہ تقریر کر کے بیٹھا تو ایک نہایت مسکین صورت انسان جو اُسی جماعت کا فنانشل سیکرٹری تھا کھڑا ہوا۔ اس نے اپنی جیب سے کاپی نکال لی اور کہا میں ان تقریر کرنے والے دوست کو توجہ دلاتا ہوں کہ انہیں سب سے پہلے اِس وعظ پر آپ عمل کرنا