خطبات محمود (جلد 29)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 396 of 477

خطبات محمود (جلد 29) — Page 396

$1948 396 خطبات محمود نہیں آسکتی بلکہ اس کے لیے با قاعدہ تبلیغ اورتنظیم اور تمام محلوں میں بیداری پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔شہر کا نقشہ اپنے سامنے لڑکا لیا جائے اور کوئی گلی ایسی نہ رہنے دی جائے جس میں تبلیغ کا کوئی نہ کوئی ذریعہ موجود نہ ہو۔مگر گلی کے یہ معنے نہیں کہ دو تین میل کے حلقہ میں ایک مبلغ بٹھا دیا جائے بلکہ گلی سے مراد صرف دو تین سو گز کا علاقہ ہے۔اس طرح شہر کا کوئی حصہ بھی ایسا نہیں رہنا چاہیے جس میں اُس حلقہ کی ضروریات کے مطابق کوئی مبلغ کام نہ کر رہا ہو۔اگر اس طرح کام کیا جائے تو جماعت یکدم کئی گنا بڑھ جائے گی۔عام طریق یہی نظر آتا ہے کہ جہاں کثرت سے احمدی رہتے ہوں وہاں وہ تبلیغ میں ست ہو جاتے ہیں۔لیکن جہاں اکیلا احمدی ہوتا ہے وہ اور لوگوں کو بھی احمدی بنانے کی کوشش کرتا ہے اور لوگوں کو احمدیت میں شامل کر لیتا ہے۔میں سمجھتا ہوں اگر پورے طور پر کام کیا جائے تو یہاں کے پانچ ہزار افراد تین سال میں ہی پندرہ بیس ہزار بن سکتے ہیں اور اس طرح یقیناً وہ اخراجات بھی پورے ہو سکتے ہیں جو جماعت کی تنظیم کی وجہ سے بڑھانے ہوں گے۔شروع میں بے شک بوجھ زیادہ برداشت کرنا پڑے گا لیکن جب جماعت بڑھ گئی تو جو اخراجات پانچ ہزار کے لیے بوجھ کا موجب ہوں گے وہ میں ہزار کے لیے بوجھ کا موجب نہیں ہوں گے۔پس جماعت کو اس بارہ میں غور کرنا چاہیے اور جلد کوئی سکیم طے کرنی چاہیے۔بلکہ افرادِ جماعت کو چاہیے کہ اگر ان کے ذہن میں کوئی بات آئے تو وہ مجھے بھی لکھیں کہ ہمارے خیال میں جماعت کو ان باتوں پر عمل کرنا چاہیے۔بہر حال اس مشکل کا حل اب ہمیں سوچنا پڑے گا اور جب اس کا حل سوچا جائے گا تو ہو سکتا ہے کہ ایک فرد کے ذہن میں وہ بات آجائے جو جماعتی عہدیداروں کے ذہن میں نہ آئے یا جماعتی عہد یداروں کے ذہن میں وہ بات آجائے جو میرے ذہن میں نہ ہو۔اگر جماعت میں یہ احساس پیدا ہو جائے کہ ہمیں اپنی موجودہ مشکل کا حل تلاش کرنا چاہیے تو میں سمجھتا ہوں اسی سوچنے کے نتیجہ میں جماعت میں بہت بڑی تبدیلی پیدا ہو جائے گی۔آخر یہ کتنے بڑے فکر کی بات ہے کہ جماعت جو پہلے یہاں 1/2 فیصدی تھی اب 1/4 فیصدی رہ گئی ہے۔کیا یہ مرض اس قابل نہیں کہ اس کے علاج کی جستجو کی جائے ؟ لوکل انجمنوں کو چاہیے کہ وہ اس بارہ میں جلسے کریں، تقریریں کریں اور افراد جماعت کو اپنے خیالات پیش کرنے کا موقع دیں۔اگر وہ ایسا کریں گے تو محض انہی جلسوں اور غور و فکر کے نتیجہ میں ہی وہ اپنے اندر