خطبات محمود (جلد 29)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 388 of 477

خطبات محمود (جلد 29) — Page 388

$1948 388 خطبات محمود جو خدائی نظام کو درہم برہم کر دے وہ دوسرے لفظوں میں یہ اقرار کرتا ہے کہ وہ مامور جھوٹا تھا اور وہ جماعت خدائی جماعت نہیں تھی۔اور اگر وہ مامور خدا تعالیٰ کی طرف سے تھا اور اگر وہ جماعت واقع میں خدا تعالی کی جماعت تھی تو اس مقصد کے پورا ہونے سے پہلے جس کے لیے وہ مامور بھیجا گیا تھا اُس میں تباہ کر دینے والا تفرقہ پیدا ہی کس طرح ہو سکتا ہے۔اگر ایسا تفرقہ پیدا ہو جائے تو جماعت اپنے مقصد میں ناکام رہے گی اور اگر ناکام رہے گی تو مامور یقیناً جھوٹا ہوگا۔پس یہ تو کوئی سوال ہی نہیں کہ اس کے یا کسی اور کے فتنہ پیدا کرنے سے کیا ہو جائے گا۔یہ تو ہم پہلے دن سے جانتے ہیں۔ان فتنوں کے متعلق بھی جو کھڑے کیے گئے اور ان فتنوں کے متعلق بھی جو موجود ہیں اور ان فتنوں کے متعلق بھی جو آئندہ ہو سکتے ہیں کہ ان میں سے کوئی بھی کامیاب نہیں ہو سکتا اور کوئی شخص بھی اپنے مقصد کو نہیں پاسکتا۔کیونکہ اگر فتنہ کا میاب ہو جائے اور شیطان اپنے مقصد کو پالے تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام مسیح نہیں رہتے اور ان کی جماعت خدائی جماعت نہیں رہتی۔کیونکہ ابھی تک اُس نے اُس مقصد کو حاصل نہیں کیا جس کے لیے وہ قائم کی گئی تھی۔اور ابھی تک وہ پیشگوئیاں پوری نہیں ہوئیں جو اسلام اور احمدیت کی ترقی کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمائی تھیں۔بعض چیزیں ایسی ہوتی ہیں جن کو انسان روز روشن کی طرح جانتا ہے اور وہ سونے سے پہلے بھی جانتا ہے اور سونے کے وقت بھی جانتا ہے۔دن کے اوقات میں بھی جانتا ہے اور رات کی گھڑیوں میں بھی جانتا ہے اور انہی صداقتوں میں سے ایک یہ بھی ہے جو نہ پہلے بدلی اور نہ آئندہ بدلے گی۔پس میر انشا اس خط کے اظہار سے یہ تھا کہ میں لکھنے والے کو خود اس کی اپنی نظروں میں ذلیل کر دوں اور وہ ہی سمجھے کہ میں نے جھوٹ بولا تھا۔اگر میں اُس خط کے مضمون کو بیان نہ کرتا تو وہ دل میں خیال کر لیتا کہ دیکھا آخر ڈر گئے اور انہوں نے سمجھ لیا کہ اس فتنہ انگیزی میں یہ شخص کامیاب ہو جائے گا۔تب میں نے مناسب سمجھا کہ اس خط کا ذکر کر دوں تا کہ وہ لوگ جن پر اُس نے حسن ظنی کی یا صحیح لفظوں میں یوں کہو کہ بدظنی کرتے ہوئے یہ سمجھا کہ وہ اس فتنہ میں مبتلا ہو جائیں گے وہ بھی اس کے لیے ایسا جواب مہیا کر دیں کہ جس کے بعد اس کے لیے اپنے جھوٹ سے آگاہ ہونا کوئی مشکل نہ رہے۔ورنہ جیسا کہ میں نے بار ہا بتایا ہے خدائی ارادوں میں کوئی شخص حائل نہیں ہوسکتا۔اور اگر کوئی شخص حائل ہونے کی کوشش کرے تو وہ اللہ تعالیٰ کے عذاب کا نشانہ بن جاتا ہے۔لیکن دل چاہتا ہے کہ ہمارا کوئی عزیز تباہ نہ ہو۔