خطبات محمود (جلد 29) — Page 379
$1948 379 خطبات محمود اور اگر وہ نہیں سمجھ سکتے تو اُن کی رپورٹ کرو کہ یہ لوگ ٹھیک نہیں ہیں۔ہمارے پاس اتنا وقت نہیں کہ ہم پنے لوگوں کے پیچھے لگے رہیں۔ہمارے سپرد بہت بڑا کام ہے جو ہم نے کرنا ہے۔اگر یہ حالت رہے اور ہم اپنے لوگوں کے ہی پیچھے پڑے رہیں کہ تم نمازیں پڑھو، روزے رکھو تو ہمارا کام بہت بڑھ جائے گا اور ہم اسی کام کو جو ہمارے سپرد ہے پوری طرح پورا نہیں کر سکیں گے۔اگر جماعت میں کوئی ایسا گروہ پایا جاتا ہے جو اپنی ذمہ داریوں کو نہیں سمجھتا تو اسے فوراً کاٹ دیا جائے تا ہماری باہر کی طرف توجہ رہے۔اگر تم ایسا کرو گے تو تمہاری بدنامی کا موجب نہیں ہوگا تم پر کوئی حرف گیری نہیں کر سکے گا ہم پر کوئی الزام نہیں لگائے گا۔اگر تم صرف دس ہی رہ جاتے ہو تو تمہیں کوئی یہ نہیں کہے گا کہ تم دس کیوں ہو؟ وہ یہی کہے گا یہ دس آدمی مخلص ہیں۔لوگ کہیں گے لاہور کی جماعت بڑی مخلص ہے ، پشاور کی جماعت بڑی مخلص ہے، لائل پور کی جماعت بڑی مخلص ہے۔لیکن اگر جماعت میں ایسے لوگوں کی ترقی کر لی جائے جن میں اخلاص اور ایمان نہ ہو تو اس کا کوئی فائدہ نہیں۔ہاں مجھے یاد آ گیا معلوم ہوتا ہے اس شخص کی تنخواہ یا اس کے باپ کی تنخواہ ڈیڑھ سو روپیہ ہے کیونکہ اس نے لکھا ہے جس کی ڈیڑھ سو آمدن ہو وہ بھلا آپ کو کیا چندہ دے؟ مگر اُس کو کیا معلوم کہ اخلاص والے کے اندر کیا جس ہوا کرتی ہے۔اُس نے اپنی بے ایمانی پر ہی قیاس کر لیا ہے۔وہ کہتا ہے کہ ڈیڑھ سو ماہوار آمد والا چندہ نہیں دے سکتا۔حالانکہ اس سے قبل میں کسی خطبہ میں بتا چکا ہوں کہ جالندھر کی ایک احمدی عورت میرے پاس آئی اور اُس نے بتایا کہ اُن کے ساتھ کیا ہوا ہے اور یہ کہ وہ بالکل بر باد ہو گئے ہیں۔پھر اُس نے دوز یور نکال کر بطور چندہ دے دیئے۔میں نے اُسے کہا تم تولٹ کر آئی ہو یہ چندہ تو اُن لوگوں پر ہے جو یہاں تھے اور جولوٹ مار سے محفوظ رہے۔وہ عورت یہ بھی کہہ چکی تھی کہ اس نے حفاظت مرکز کا چندہ ادا کر دیا ہوا ہے۔اُس نے کہا میں یہی دو زیور نکال کر لائی ہوں۔جب میں نے دیکھا کہ جماعت نازک دور سے گزر رہی ہے تو میں نے خیال کیا کہ میرا سارا زیور اور دوسری جائیداد تو کفار نے کوٹ لی ہے کیا اس میں خدا تعالیٰ کا کوئی حصہ نہیں۔میرے پاس یہی دوزیور ہیں جو میں بطور چندہ دیتی ہیں۔اب بے ایمان تو یہی خیال کرے گا کہ وہ ڈیڑھ سو کی آمدنی سے چندہ نہیں دے سکتا لیکن مومن بھوکا مرتا ہوا بھی چندہ دیتا ہے۔چندوں کی لسٹیں دیکھ لو غرباء کی تعداد زیادہ ہوگی امراء کی تعداد نسبتی طور پر کم ہوگی۔اگر امیر دس پندرہ فیصدی چندہ دے کر سمجھتا ہے کہ