خطبات محمود (جلد 29) — Page 368
1948ء 368 خطبات محمود پھر لڑکیوں کا سکول ہے اس میں دس فیصدی باہر کی لڑکیاں ہوں گی باقی وہاں کی ہی ہوں گی۔ اسی طرح لڑکوں کے سکول سے بھی وہاں کے ہی لوگ زیادہ فائدہ حاصل کریں گے۔ وہاں پانی کا بھی انتظام کرنا ہوگا، سڑکیں بھی بنانی ہوں گی۔ ہمارا اندازہ ہے کہ چالیس فیصدی زمین سڑکوں پر ہی لگ جائے گی۔ اس طرح جو بھی بوجھ پڑے گا وہ سگان کو ہی اٹھانا ہوگا۔ یہ کوئی تجارتی کام نہیں باوجود اس کے لاکھوں لاکھ رو پیدا انجمن کو چندوں سے دینا ہوگا۔ پس یہ وسوسہ کہ یہ جماعت پر بوجھ بن گیا ہے یا قادیان والوں کی حق تلفی ہوئی ہے، اُن کو حصہ نہیں دیا گیا بالکل غلط ہے۔ اگر ان کے پاس اسی فیصدی زمین چلی گئی ہے تو اُن کی کونسی حق تلفی ہوئی ہے؟ آئندہ بھی اُن کا خیال رکھا جائے گا اور اس سے فائدہ اٹھانے کا زیادہ موقع اُنہی کو ملے گا۔ اور یہ لازمی بات ہے کہ اخراجات میں اکثر حصہ وہیں کے لوگوں کو ادا کرنا ہوگا۔ اس کی دو ہی صورتیں ہیں۔ یا تو الگ ٹیکسیشن (TAXATION) کی صورت میں یہ اخراجات پورے کیے جائیں۔ یا زمین کی قیمت سے یہ اخراجات پورے کیے جائیں۔ ماہرین کا خیال ہے کہ ڈائریکٹ ٹیکسیشن کی نسبت ان ڈائریکٹ ٹیکسیشن زیادہ اچھا ہوتا ہے۔ مثلاً چونگی ہوتی ہے۔ آلو جو تم کھاتے ہو اس پر تھوڑی بہت چونگی تم ادا کرتے ہو۔ گو بھی جو تم کھاتے ہو اس پر تھوڑی بہت چونگی تم ادا کرتے ہومگر تمہیں پتہ بھی نہیں لگتا۔ لیکن اگر وہی چونگی ایک دور و پیر کر کے تم پر ماہوار لگا دی جائے تو تم شور مچا دو۔ لیکن چونگی کی صورت میں تم وہ ٹیکس ادا بھی کرتے رہتے ہو اور پھر اس کا پتہ بھی نہیں لگتا۔ ساٹھ روپے ماہوار لینے والے پر اگر دو روپے ماہوار یا پچیس روپے سالانہ ٹیکس لگا دیا جائے یا ایک چپڑاسی پر ایک یا دو روپیہ ماہوار ٹیکس لگایا جائے تو وہ اسے برداشت نہ کر سکے گا۔ بعض دفعہ بڑے بڑے تاجروں پر بھی پچیس پچاس روپے سالانہ ٹیکس لگایا جائے تو وہ شور مچا دیتے ہیں مگر چونگی سے ایک بھاری رقم ٹیکس کی مل۔ کی مل جاتی ہے اور لوگ محسوس بھی نہیں کرتے۔ بہر حال بلا واسطہ ٹیکس بالواسطہ ٹیکس سے سہل ہوتا ہے۔ اگر ہر ایک زمین لینے والے سے کہا جائے کہ ایک ہزار یا دو ہزار روپیہ بطور ٹیکس جمع کرا دو تو اکثر لوگ فوراً پیچھے ہٹ جائیں گے۔ لیکن اگر انہیں یہ کہا جائے کہ ایک کنال کے لیے پانچ سوروپے جمع کرا دو تو فوراً جمع کرا دیں گے۔ وہ سمجھیں گے کہ آخر ز مین تو لینی ہی تھی اور کسی قسم کا خیال کیے بغیر وہ رقم داخل کرا دیں گے۔ یہ طریقہ سہل ترین ہے اور اس طرح بغیر احساس کے ہر ایک اپنی ذمہ داری کو ادا کر جاتا ہے اور اس کے دل پر بوجھ بھی نہیں پڑتا۔