خطبات محمود (جلد 29)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 364 of 477

خطبات محمود (جلد 29) — Page 364

$1948 364 خطبات محمود تو انہیں اس طرف توجہ دلائی تھی کہ وہ اپنی ذمہ داریوں کو ادا کرنے کے لیے اور پچست ہو جائیں۔حقیقت یہ ہے کہ اب تک جو زمین تقسیم ہوئی ہے اس میں سے اسی فیصدی زمین قادیان والوں کے پاس گئی ہے۔مثلاً صدر انجمن احمدیہ کے دفاتر ہیں یہ قادیان میں ہی تھے یالا ہور میں تھے؟ پھر تحریک جدید کے دفاتر ہیں۔تحریک جدید کے دفاتر قادیان میں ہی تھے یا لا ہور میں تھے۔پھر صدرانجمن احمد یہ اور تحریک جدید کے کارکنوں کے مکانات ہیں۔یہ لوگ بھی قادیان میں ہی تھے۔ان تمام پر جوز مین لگے گی وہ قادیان کے لوگوں کے پاس ہی جائے گی اور وہاں سے آئے ہوئے آدمیوں کو ہی ملے گی۔پھر دو سو کنال زمین اس لیے الگ کر دی گئی ہے تاوہ زمین قادیان کے غرباء کو جن کے وہاں مکانات تھے یاز میں تھی دی جائے اور اُن کو وہاں بسایا جائے۔اگر دس دس مرلہ کے ہی مکانات سمجھ لیے جائیں تو اس کا یہ مطلب ہوگا کہ دوسو کنال زمین میں چار سو مکان بن جائیں گے اور چارسو مکانات کا یہ مطلب ہے کہ یہ قادیان کے مکانات کے بیس فیصدی ہیں یعنی دو ہزار میں سے چارسو کوز مین مفت ملے گی۔یہ زمین بھی قادیان والوں کو ہی ملے گی۔پھر جو زمین اب تک فروخت ہوئی ہے اس میں سے نصف سے زیادہ قادیان والوں نے لی ہے۔جو شخص واقف نہیں یا جس نے کاغذات نہیں دیکھے وہ تو تو غلط فہمی میں پڑسکتا ہے لیکن دوسرا نہیں پڑ سکتا۔ہر ایک چیز کا یہ منشا نہیں ہوا کرتا کہ اس سے انتہائی درجہ کا یہ نکال لیا جائے۔میرا منشا تو یہ تھا کہ قادیان والوں کی رگِ حمیت کو جوش میں لایا جائے۔جھٹ پٹ یہ نتیجہ نکال لینا کہ قادیان والوں کو زمین ملی ہی نہیں اور اُن کی حق تلفی ہوئی ہے درست نہیں۔پھر ایسے شخص کا کہنا جس کے پاس ریکار ڈ رہتے ہیں اور میں اگر منگواتا ہوں تو عارضی طور پر منگواتا ہوں اور پھر واپس کر دیتا ہوں۔اور بھی زیادہ افسوس کی بات ہے۔معلوم ہوتا ہے کہ اس نے کاغذات دیکھے ہی نہیں ورنہ فروخت شدہ زمین میں سے بھی زیادہ تر قادیان والوں کے پاس ہی گئی ہے۔چونکہ میرے خاندان کے افراد زیادہ ہیں سو کنال تو ہمارے گھر نے ہی خریدی ہے۔ہم بھی تو قادیان والوں میں سے ہی ہیں۔باقی زمین بھی پچاس فیصدی کے قریب قادیان والوں کے پاس ہی گئی ہے۔اس کے معنے یہ بنیں گے کہ دو ہزار کنال میں سے صرف تین سو کنال کے قریب باہر والوں کے پاس گئی ہے 1700 کنال کے قریب قادیان والوں کے پاس گئی ہے۔پس یو نہی شور مچا دینا کہ قادیان والوں کی حق تلفی ہو گئی ہے ہمیں زمین نہیں ملی بیوقوفی کی بات ہے۔باقی لوگ کچھ ایسے ہیں جو چاہتے ہیں کہ