خطبات محمود (جلد 29)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 356 of 477

خطبات محمود (جلد 29) — Page 356

1948ء 356 خطبات محمود عیسائی حضرت ہوگی ۔ یہی خدا تعالیٰ کا قانون ہے جو بدل نہیں سکتا۔ یہی خدا تعالیٰ کی سنت ہے اور خدا تعالیٰ کی سنت کو بدلنے والا کوئی نہیں ۔ خدا تعالیٰ کی سنت یہی ہے کہ جب بھی اُس کا کوئی رسول آتا ہے وہ بالآخر غالب ہوتا ہے۔ خدا تعالیٰ فرماتا ہے كَتَبَ اللهُ لَأَغْلِبَنَّ اَنَا وَ رُسُلِی 5 مجھے اپنی ذات کی قسم میں اور میرے مامور ضرور کامیاب ہوں گے۔ یہ تو صرف خدا تعالیٰ ہماری آزمائش کرتا ہے کہ یہ کتنے عرصہ تک ایمان پر قائم رہتے ہیں۔ انبیاء آتے ہیں اور ان کے ماننے والوں پر مصائب پر مصائب آتے ہیں ۔ لوگ حیران ہو جاتے ہیں اور کہہ اُٹھتے ہیں مَتی نَصُرُ اللهِ اللہ تعالیٰ کی نصرت کب آئے گی؟ اور اُسی وقت ہی خدا تعالیٰ کی نصرت آجاتی ہے۔ حضرت عیسی علیہ السلام پر ایمان لائے اور ان پر اتنے ظلم ہوئے اورا۔ ، اور اتنے مصائب نازل ہوئے کہ اُن کا لاکھواں حصہ بھی ہمیں برداشت نہیں کرنا پڑا ۔ ہم جب مثال دیتے ہیں کہ ہمارے اتنے آدمی قتل ہوئے ہیں تو ہم پانچ سات سے زیادہ نہیں گن سکتے ۔ وہاں مشرقی پنجاب کے فساد میں چند سواحمدی مارے گئے ہیں مگر عیسائی لاکھوں لاکھ قتل ہوئے ۔ ایک ایک دو دو ہزار تو ایک ایک بستی میں ہیں مگر ۔ مارے جاتے تھے لیکن پھر بھی وہ بڑھتے چلے گئے۔ مکھیوں کی طرح انہیں یقین تھا کہ ہمارا فرض ہے کہ ایک عمارت گرے تو دوسری تعمیر کریں ۔ تم بے شک مارتے چلے جاؤ اس کی ہمیں کوئی پروا نہیں ۔ آخر یہاں تک نوبت پہنچ گئی کہ انہیں غاروں میں چھپنا پڑا۔ میں نے وہ غاریں خود دیکھی ہیں۔ تاریخ سے معلوم ہوتا ہے انہیں سات سات آٹھ آٹھ سال تک ان غاروں میں رہنا پڑا۔ ہم اگر پانچ منٹ وہاں ٹھہر میں تو ایک وحشت سی ہوتی ہے۔ آخری جگہ اسی فٹ نیچے یعنی پانی سے بھی نیچے تھی جس جگہ تک ہم گئے تھے وہ کوئی چالیس پچاس فٹ نیچے ہوگی ۔ وہاں تک پہنچ کر ہی ہمارے ساتھیوں نے شور مچا دیا تھا کہ جلد باہر چلو لیکن وہ لوگ وہاں سالہا سال تک رہے۔ جب ہم وہاں پہنچے تو وہاں ہم نے کتبے لگے ہوئے دیکھے۔ کسی پر لکھا ہوا تھا میری پیاری بیوی اور ساتوں بچے جو اس مکان میں رہتے تھے یہاں قتل کر دیئے گئے اب اُن کی یادگار کے طور پر میں یہاں کتبہ لگاتا ہوں ۔ کہیں لکھا تھا ہمارے گرجے کے پادری یہاں دعا کر رہے تھے کہ پولیس نے چھاپہ مارا اور انہیں قتل کر دیا۔ اس جگہ ہمارے قبیلے کے چالیس آدمی چھپے ہوئے تھے کہ پولیس کو پتہ لگ گیا اور انہیں مار دیا گیا۔ اس طرح کئی کتبے لگے ہوئے تھے۔ وہ لوگ وہاں چھے رہے یہاں تک کہ تین سو سال گزر گئے ۔ وہ اکثر غاروں میں ہی چھپے رہتے