خطبات محمود (جلد 29) — Page 351
$1948 351 خطبات محمود میں نے اُسے یہی کہا تھا کہ ہمارے پاس جو آ جائے گا ہم اُسے ٹھہرالیں گے۔پہلے اگر ہم قادیان میں ساٹھ ہزار افرادکو کھانا کھلاتے رہے ہیں تو اُن کو بھی کھلا لیں گے۔جگہ کے لیے میں کچھ نہیں کہہ سکتا۔وہ انجمن کا کام ہے۔اسی طرح ربوہ سے اطلاع آئی ہے کہ چکوال کے بعض تاجروں نے کہا ہے کہ ہمیں ربوہ میں زمین دی جائے۔جب اُن سے پوچھا گیا کہ آپ وہاں زمین کیوں خریدنا چاہتے ہیں؟ تو انہوں نے کہا کہ یہ جگہ کسی دن بڑی عظیم الشان منڈی بن جائے گی۔اس لیے ہم بھی یہاں زمین خریدنا چاہتے ہیں۔دوسرے لوگوں کی نظر میں اس زمین کی کتنی قیمت ہے مگر ربوہ والے اور متر د داحمدی سوچ ہی میں پڑے ہوئے ہیں۔اگر قیمت فرض کرو ڈیڑھ ہزار روپیہ فی کنال ہو جائے تب بھی یہ لوگ یہی کہتے رہیں گے کہ ہمیں ایک ہزار میں ہی جگہ دلوائی جائے۔پس یہاں قیمت کا سوال نہیں تردد کا سوال ہے۔ایسے لوگ ہر قدم پر تردد اور تذبذب میں پڑتے چلے جاتے ہیں۔مثلاً اگر انہیں کہا جائے کہ مسجد میں نماز پڑھو تو وہ کہہ دیں گے مسجد دور ہے اس لیے ہم وہاں نہیں جاسکتے۔پھر مسجد اُن کے گھر کے قریب ہی بنا دی جائے تو وہ کہیں گے کہ یہ بھی دور ہے۔پھر اُن کے گھر ہی میں نماز کا انتظام کر دیا جائے تو وہ یہ بہانہ بنادیں گے کہ ہمارے گھر میں جگہ نہیں ہے نکل سکتی۔پھر انہیں کہا جائے اچھا تم اکیلے ہی نماز پڑھ لیا کرو تو وہ کہہ دیں گے ہم سے کھڑا نہیں ہوا جاتا۔اور اگر بیٹھ کر نماز پڑھنے کو کہا جائے تو وہ کہہ دیں گے کہ ہم بیٹھ کر نماز پڑھنے میں بھی تھک جاتے ہیں۔اور اگر کہا جائے اچھا لیٹ کر ہی نماز پڑھ لیا کرو تو وہ کہہ دیں گے کہ لیٹ کر نماز پڑھنے سے ہمیں شرم آتی ہے۔غرض ایسے لوگ کوئی نہ کوئی بہانہ کر دیتے ہیں۔حقیقت یہی ہے کہ ان لوگوں میں تذبذب اور تر ڈر پایا جاتا ہے۔جتنا گڑ ڈالو گے اُتناہی میٹھا ہوگا۔اگر ہم نے نیا مرکز بنا کر تبلیغ کرنی ہے تو اس کے لیے سامان بھی مہیا کرنے ہوں گے جن سے اُس کے متمدن شہروں سے تعلقات ہوں۔اگر ہم یونہی جھونپڑیاں بنالیں ، وہاں نہ ریل ہو نہ ڈاک کا انتظام ہو، نہ ہسپتال اور نہ سکول کالج تو پھر جو شہر بنانے کی غرض تھی وہ پوری نہیں ہوتی۔اگر ہم نیا مرکز بنائیں گے تو بہر حال ہمیں اُسے ایسا بنا نا پڑے گا کہ اُس کے تعلقات دوسرے شہروں سے وسیع سے وسیع تر ہوتے چلے جائیں ورنہ رہائش کا انتظام تو دوسرے شہروں میں بھی ہوسکتا ہے۔قادیان میں جب میں نے ٹیلیفون کا انتظام کیا تھا اُس وقت کئی لوگوں نے کہا تھا کہ بھلا اس