خطبات محمود (جلد 29)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 330 of 477

خطبات محمود (جلد 29) — Page 330

$1948 330 خطبات محمود کی طرف جانے والے رستہ کی طرف لوگوں کو بلائے۔اور جب وہ اُس مقام پر پہنچ جائے تو اعلیٰ مومن کا پی یہ کام ہوتا ہے کہ وہ اُس رستہ پر چلنا شروع کر دے جس پر خدا تعالیٰ چل رہا ہے۔یہ امر ظاہر ہے کہ کوئی مادی سڑک تو نہیں ہو سکتی جس پر اللہ تعالیٰ چل رہا ہو۔اللہ تعالیٰ کی صفات ہی وہ رستہ ہیں جن کی نسبت کہا جا سکتا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی راہ ہیں۔مثلاً اللہ تعالیٰ رب ہے اُس کا ایک رستہ ربوبیت کے اظہار کا رستہ ہے۔وہ رحمان ہے اُس کا ایک رستہ رحمانیت کے اظہار کا رستہ ہے۔وہ رحیم ہے اُس کا ایک رستہ رحیمیت کے اظہار کا رستہ ہے۔وہ مَالِكِ يَوْمِ الدِین ہے اُس کا ایک رستہ مالکیت کے اظہار کا ہے۔پس اللہ تعالیٰ کے رستہ پر چلنے کے یہ معنے ہیں کہ انسان بھی رب بن جائے ، رحمن بن جائے ، رحیم بن جائے ، جبار بن جائے ، حافظ بن جائے ، قھار بن جائے ، رافع بن جائے۔غرض کی اُدْعُ کا یہ مطلب ہے کہ پہلے تو ان لوگوں کو جو خدا تعالیٰ کے رستہ کی طرف نہیں آتے اُس طرف بلا اور جب وہ آجائیں تو پھر انہیں اس راستہ پر چلا جس پر خدا تعالیٰ چل رہا ہے۔رسول کا جو اصل کام ہے اس کی طرف قرآن کریم میں دوسری جگہ اللہ تعالیٰ ان الفاظ میں اشارہ فرماتا ہے رَبَّنَا وَابْعَثْ فِيهِمْ رَسُوْلًا مِّنْهُمْ يَتْلُوا عَلَيْهِمْ أَيْتِكَ وَيُعَلِّمُهُمُ الكتب وَالْحِكْمَةَ وَيُزَكِّيهِمْ إِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ 5 رسول لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی آیات سنا کر اُس کے قائم کردہ سلسلہ کی طرف بلاتا ہے اور پھر ان کو کتاب سکھاتا ہے ، حکمت سکھاتا ہے اور تزکیہ کرتا ہے۔یعنی غیر مومن کو مومن بناتا ہے اور مومن کو خدا رسیدہ مومن بناتا ہے۔مذکورہ بالا آیات جن پر میں خطبہ دے رہا ہوں ان میں بھی اُدْعُ إِلى سَبِيْلِ ربك کہا ہے۔ہدایہ ، دین اور رشد وغیرہ کے لفظ استعمال نہیں کیے۔بلکہ سَبِيلِ رَبَّكَ کے الفاظ استعمال کیے ہیں جس کے دو معنی ہیں۔یعنی غیر مومن کو پہلے مومن بناؤ اور پھر مومن کو خدا رسیدہ مومن بناؤ۔جب کوئی شخص اپنے ایمان کو مشاہدہ کی شکل میں لے آتا ہے تو پھر وہ فلمی طور پر رب بن جاتا ہے، رحمان بن جاتا ہے، رحیم بن جاتا ہے۔وہ سمجھتا ہے کہ جس رستہ پر خدا تعالیٰ چل رہا ہے اسی پر مجھے بھی چلنا چاہیے۔اسی طرح ربوبیت ، رحمانیت ، رحیمیت ، عزیزیت ، غفاریت و غیره خدا تعالیٰ کی جتنی بھی صفات ہیں وہ اپنے اندر پیدا کر لیتا ہے۔وہ اسی پر کفایت نہیں کر جاتا کہ وہ چند