خطبات محمود (جلد 29)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 329 of 477

خطبات محمود (جلد 29) — Page 329

خطبات محمود 329 1948ء وجہ کیا ہے؟ تو اس نے بتایا کہ جب سے وہ آپ کے پاس سے گئے ہیں وہ آپ کی طرز کا ہی لباس پہنتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ مجھے آپ سے محبت ہو گئی ہے اس لیے میں وہی کام کروں گا جو آپ کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ مجھے آ۔ وہی کپڑے پہنوں گا جو آپ پہنتے ہیں۔ غرض اگر اگر ایک شخص کو کسی سے محبت ہوتی ہے تو وہ اُس کے نقش قدم پر چلتا چلتا ہے۔ خدا تعالی فرماتا ہے اُدْعُ إِلى سَبِيلِ رَبِّكَ اس کا یہ مطلب نہیں کہ تو ہی یہ کام کر، یہ کام تیرا ہی ہے دوسروں کا نہیں بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ تو یہ کام کر اور تیری امت میں سے جو تجھ سے محبت کرنے والا ہو گا وہ بھی تمہیں دیکھ کر یہ کام کرنے لگ جائے گا۔ گویا یہ کہہ کر آپ کی امت کا امتحان لیا گیا ہے۔ خدا تعالیٰ یہ دیکھنا چاہتا ہے کہ آیا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ کی امت کو محبت ہے یا نہیں؟ اور کیا وہ آپ کو کوئی کام کرتے ہوئے دیکھ کر وہی کام کرنے لگ جاتی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا سب سے بڑا کام کیا تھا ؟ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا سب سے بڑا کام داعی الی اللہ کا کام تھا۔ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں دوسری جگہ فرماتا ہے رَبَّنَا إِنَّنَا سَمِعْنَا مُنَادِيًا يُنَادِى لِلإِيْمَانِ أَنْ آمِنُوا بِرَبِّكُمْ فَأَمَنَا - 4 رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اصل کام منادی کا تھا اور یہی معنے رسول کے ہیں۔ منادی اور داعی ایک ہی بات ہے۔ صرف فرق یہ ہے کہ منادی کے لفظ میں زور پایا جاتا ہے۔ منادی کرنے والا خوب چلا تا ہے۔ گویا نداء ، دعا کا انتہائی درجہ ہوتا ہے۔ فرمایا اُدْعُ الى سَبِيلِ رَبِّكَ - اے رسول! تو اپنے رب کے رستہ کی طرف دنیا کو بلا اور یہی تیرا اس بعثت میں کام ہے۔ اب کسی کو رب کے رستہ کی طرف بلانے کے دو ہی معنے ہوا کرتے ہیں۔ ایک معنے یہ ہوا کرتے ہیں کہ تو اس رستہ کی طرف بلا جو اس کی طرف جاتا ہے اور ایک معنے یہ ہوا کرتے ہیں کہ جس رستہ پر خدا تعالیٰ چل رہا ہے اُس رستہ پر تو باقی لوگوں کو بھی چلا ۔ پس اُدح کے یہ دونوں معنی ہو سکتے ہیں۔ یعنی اے محمد رسول اللہ ! تو لوگوں کو اس رستہ کی طرف بلا جو خدا کی طرف جاتا ہے اور یہ بھی ہو سکتے ہیں کہ تو اس رستہ کی طرف بلا جس پر خدا چل رہا ہے۔ یہ دونوں ہی اس آیت کے معنے ہیں۔ ایک ادنیٰ درجہ کے معنے ہیں اور ایک اعلیٰ درجہ کے ہیں۔ سب سے پہلے محبت پیدا کرائی جاتی ہے اور جب محبت پیدا ہو جاتی ہے اور لوگ ان صداقتوں ا کو قبول کر لیتے ہیں تو پھر وہ دوسروں کو اس کی طرف بلاتے ہیں۔ یعنی مومن کا یہ کام ہے کہ وہ خدا تعالیٰ