خطبات محمود (جلد 29) — Page 303
خطبات محمود کسی کے لیے جائے اعتراض نہیں ہو سکتی ۔ 303 1948ء رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ کا واقعہ ہے غرباء آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انہوں نے کہا یا رسول اللہ ! امراء ہر قسم کی خدمت دین میں حصہ لیتے ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے انہیں مالدار بایارسول اللہ ! ہرقسم کی بنا دیا ہے۔ ہمیں بھی کوئی ایسا طریق بتائیے جس سے ہم ترقی کر سکیں اور اپنے امیر بھائیوں کی طرح اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس کی خوشنودی سے حصہ لے سکیں۔ آپ نے فرمایا تم لوگ ہر نماز کے بعد تینتیس تینتیس دفعہ تسبیح و تحمید اور چونتیس دفعہ تکبیر کہہ لیا کرو۔ اگر تم ایسا کرو گے تو اپنے امیر بھائیوں سے پانچ سوسال پہلے جنت میں چلے جاؤ گے ۔ انہوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس ہدایت پر عمل کرنا شروع کر دیا۔ کچھ عرصہ بعد دوبارہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انہوں نے کہا یا رسول اللہ ! ہمارے امیر بھائیوں کو منع کیجیے کیونکہ انہیں بھی پتہ لگ گیا ہے اور وہ بھی ایسا کرنے لگے ہیں۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں خدا تعالیٰ کے فضل کے دروازہ کو بند کرنے والا کون ہوں۔ اگر وہ بھی تسبیح و تحمید اور تکبیر کرنے لگے ہیں اور ساتھ ہی خدا تعالیٰ نے دولت کے اعتبار سے اُن کو ایک زائد فضیلت بھی عطا فرمادی ہے اور وہ خدمت دین میں دوسروں سے زیادہ حصہ لیتے ہیں تو یہ خدا تعالیٰ کا اُن پر فضل ہے۔ اس کو کون شخص روک سکتا ہے ۔ 1 پس اگر وہ احمدی جس کو خدا تعالیٰ نے دولت اور عزت اور رتبہ عطا فرمایا ہے اپنی دولت اور عزت اور رتبہ کے ساتھ نمازوں کی بھی پابندی کرتا ہے، تبلیغ میں بھی حصہ لیتا ہے، چندوں میں بھی باقاعدگی اختیار کرتا ہے تو وہ یقیناً باقی جماعت کا سردار ہے۔ مگر اس لیے نہیں کہ وہ وزیر ہے، اس لیے نہیں کہ وہ ڈپٹی کمشنر ہے، اس لیے نہیں کہ وہ نواب ہے، اس لیے نہیں کہ وہ جرنیل ہے، اس لیے نہیں کہ وہ کسی اور اعلیٰ عہدے پر متمکن ہے بلکہ اس لیے کہ وہ دین میں بھی بڑھ گیا ہے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک دفعہ پوچھا گیا کہ یا رسول اللہ ! اسلام میں اچھے لوگ کون ہیں؟ آپ نے فرمایا وہی اچھے ہیں جو عرب قوم میں اچھے ہوا کرتے تھے بشر بشرطیکہ وہ دین میں بھی حصہ لیں ۔ 2 اس کے معنے یہ ہیں کہ دنیا بھی اچھی چیز ہے مگر الہی سلسلوں میں دنیوی وجہ سے کوئی شخص بڑا نہیں سمجھا جاتا بلکہ دینی خدمات کی وجہ سے بڑا سمجھا جاتا ہے۔ یہ چیز جب تک جماعت اپنے اندر پیدا نہیں کرے گی اُس وقت تک موجودہ معیار سے اس کا قدم اونچا نہیں اٹھ سکتا ۔ تم لاکھ شور مچاؤ،