خطبات محمود (جلد 29) — Page 290
$1948 290 خطبات محمود تجویز ستمبر 1947ء میں ہی کر لی گئی تھی اور اُس خواب کی بناء پر جو میں نے 1942 ء میں دیکھی تھی کہ ی میں ایک جگہ کی تلاش میں ہوں جہاں جماعت کو پھر جمع کیا جائے اور منظم کیا جائے۔ہم نے یہاں پہنچتے ہی ضلع شیخو پورہ میں کوشش کی۔پہلے ہماری یہ تجویز بھی کہ ننکانہ صاحب کے پاس کوئی جگہ لے لی جائے تاسکھوں کو یہ احساس رہے کہ اگر انہوں نے قادیان پر جو احمدیوں کا مرکز ہے حملہ کیا تو احمدی بھی نکانہ صاحب پر حملہ کر سکتے ہیں۔اس خیال کے ماتحت میں نے قادیان سے آتے ہی آٹھ نو دن کے بعد بعض دوستوں کو ہدایات دے کر ضلع شیخو پورہ بھجوا دیا تھا۔وہاں ہندوؤں کی چھوڑی ہوئی زمینوں کے متعلق ان کے ایجنٹوں سے بات چیت بھی کر لی گئی تھی اور بعض لوگ زمین دینے پر رضامند بھی ہو گئے تھے۔لیکن جب اس کا گورنمنٹ کے افسران سے ذکر کیا گیا تو انہوں نے کہا گورنمنٹ نے یہ فیصلہ کیا تو ہے کہ غیر مسلموں کی چھوڑی ہوئی جائیداد فروخت نہ کی جائے۔ہم نے انہیں کہا کہ ہم بھی ریفوبی(Refuge) ہیں اس لیے کسی غیر کے پاس زمین فروخت کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔مگرانہوں نے جواب دیا کہ چونکہ ایسا کرنے میں غلط فہمی ہوسکتی ہے اس لیے یہ زمین قیمتا نہیں دی جاسکتی۔اسی دوران میں بعض احمد یوں نے یہ خیال ظاہر کیا کہ سکھوں میں ایک طبقہ حد سے زیادہ جوش ہےاس لیے بجائے اس کے کہ اس تجویز سے فائدہ ہو ایسے لوگ زیادہ شرارت پر آمادہ ہو جائیں۔، دوست نے یہ بھی کہا کہ آپ نے خواب میں جو جگہ دیکھی تھی وہ جگہ تو پہاڑیوں کے بیچ میں تھی اور یہ بلکہ پہاڑیوں کے بیچ میں نہیں ہے۔میں نے ایک جگہ دیکھی ہے کہ جو آپ کے خواب کے زیادہ مطابق ہے۔چنانچہ ایک پارٹی تیار کی گئی اور میں بھی اُس کے ساتھ موٹر میں سوار ہو کر گیا۔وہ جگہ دیکھی, واقع میں وہ جگہ ایسی ہی تھی۔صرف فرق یہ تھا کہ میں نے خواب میں جو جگہ دیکھی تھی اس میں سبزہ تھا اور یہاں سبزہ کی ایک پتی بھی نہ تھی۔یہ جگہ اونچی ہے اور نہر کا پانی اُس تک نہیں پہنچ سکتا۔میں نے ایک گاؤں کے زمیندار سے پوچھا کہ آیا کسی وقت سیلاب کا پانی اس جگہ تک پہنچ جاتا ہے؟ اس نے کہا نہیں۔اور ایک درخت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے جس کے نیچے ہم کھڑے تھے کہا اگر پانی است درخت کی چوٹی تک پہنچ جائے تب اس جگہ تک پانی پہنچ سکتا ہے۔اب حال میں جو سیلاب آیا ہے اس کا پانی بھی اس جگہ سے نیچے ہی رہا ہے اور اُس تک نہیں پہنچ سکا۔لیکن ہم نے سمجھا کہ اگر کوشش کی جائے تو شاید یہاں بھی سبزہ ہو سکتا ہو۔چنانچہ ہم نے گورنمنٹ سے اس کے خریدنے کی درخواست کی اور اس