خطبات محمود (جلد 29) — Page 283
1948ء 283 (28 خطبات محمود مسلمانوں کو فیصلہ کر لینا چاہیے کہ عزت کی موت ذلت کی زندگی سے بہر حال بہتر ہے (فرموده 10 ستمبر 1948ء بمقام رتن باغ لاہور ) تشهد ، تعو ذاور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: " دنیا کے حالات اتنی جلدی جلدی بدل رہے ہیں کہ کوئی کچھ نہیں کہہ سکتا کہ کل کیا ہو جائے گا۔ بہت سی قو میں ایسی ہوتی ہیں جن کی مثال گیہوں میں گھن کی سی ہوتی ہے۔ جب گیہوں پیا جاتا تو گھن بھی ساتھ ہی پس جاتا ہے۔ بعض زبردست قو میں جن کی ضرورتیں دوسروں سے ٹکرانے پر انہیں مجبور کر رہی ہیں، جن کی طاقت حد سے بڑھ گئی ہے وہ دنیا کے امن پر اس قدر چھائی ہوئی ہیں کہ ہے تو باقی دنیا بھی ان کے ساتھ بھنور میں چکر لگائے چلی جاتی ہے۔ جس طرح دریا میں بھنور آتا ہے اور تنکے اور لکڑیاں بغیر تعلق کے اس میں چکر کھاتی چلی جاتی ہیں، جس طرح بگولا آتا ہے تو ہوا بعض فوائد طبعیہ کی وجہ سے چکر کھاتی ہے لیکن گرد و غبار اور کمزور اشیاء بھی ساتھ چکر کھاتی چلی جاتی ہیں۔ وہی حال اس وقت دنیا کا ہو رہا ہے۔ ایک بگولا اٹھا ہے جس میں ہوا چکر کھاتی چلی جاتی ہے لیکن گرد بھی ساتھ ہی پریشان ہو رہی ہے جس کا اس کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔ دنیا کے تیز دھارے میں ایک بھنور آیا ہوا ہے