خطبات محمود (جلد 29) — Page 256
$1948 256 خطبات محمود لیے ناممکن ہے مگر یہ تمہیں ہماری مدد سے مل جائے گی۔وہ قوم فرعون کی سینکڑوں سال تک غلام رہی۔اس کے لیے اینٹیں بناتی رہی، لکڑیاں کاٹتی رہی اور ذلیل سے ذلیل کام کرتی رہی۔وہ اتنے بڑے اور عظیم الشان ملک پر جس پر عاد قوم حکمران تھی قبضہ کیسے کر سکتی تھی۔اسے یہ ملک مل جانا آسان نہیں تھا لیکن خدا تعالیٰ نے یہ کہا کہ گو یہ ملک حاصل کرنا تمہیں ناممکن نظر آتا ہے لیکن ہم وعدہ کرتے ہیں کہ ہم یہ ملک تمہیں دیں گے اور تم یہ ملک ہماری مدد سے حاصل کر لو گے۔پس خدا تعالیٰ کے وعدے کے یہ معنی نہیں ہوا کرتے کہ اس نے وعدہ کر دیا اس لیے بندے کو کوشش کرنے کی ضرورت نہیں۔بلکہ اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ جب تم اس چیز کو حاصل کرنے کے لیے تدبیر اختیار کرو گے تو خدا تعالیٰ تمہاری مدد کرے گا اور تم کامیاب ہو جاؤ گے۔گویا اللہ تعالیٰ کے وعدے اور رنگ کے ہوتے ہیں اور بندے کے وعدے اور رنگ کے ہوتے ہیں۔خدا تعالیٰ کے وہ وعدے جن میں تدبیر شامل ہوتی ہے بندے کو اس میں دخل دینا پڑتا ہے اور اس کو پورا کرنے کے لیے کوشش کرنی پڑتی ہے۔اگر بندہ اس میں دخل نہیں دے گا اور اس کو پورا کرنے کی کوشش نہیں کرے گا تو وہ سزا کا مستحق ہوگا۔لیکن بندے کے وعدے میں یہ نہیں ہوتا۔بندہ یہ نہیں کہہ سکتا کہ میں تمہارے لیے خدا تعالیٰ کی تقدیر بدل دوں گا کیونکہ وہ اس کے اختیار میں نہیں ہوتی۔اگر وہ ایسا کہے گا تو ہم اس سے پوچھیں گے کہ تم تقدیر کو بدلنے والے کون ہو لیکن خدا تعالیٰ یہ کہہ سکتا ہے کہ اگر تم ایسا کرو گے تو میں تمہاری مدد کروں گا اور اپنی تقدیر بدل دوں گا کیونکہ تقدیر ایک ایسی چیز ہے جو اس کے قبضہ میں ہے اور وہ جب چاہے اسے بدل سکتا ہے۔خدا تعالیٰ عمل کو رد نہیں کرتا۔خدا تعالیٰ کے وعدے میں جس میں تدبیر شامل ہو یہ پایا جاتا ہے کہ تم اگر کوشش کرو تو اگر چہ یہ بظاہر ناممکن ہے لیکن میں تمہاری مددکروں گا اور تم اسے حاصل کر لو گے۔جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فتح مکہ کا وعدہ دیا گیا تو ساتھ ہی مسلمانوں کو یہ کہا گیا کہ اے مسلمانو! تم موسی کی قوم کی طرح یہ نہ سمجھ لینا کہ خدا تعالیٰ نے مکہ کے دینے کا وعدہ کیا ہے وہ خود اسے پورا کرے گا۔ہمیں اس کے لیے تدبیر کرنے کی ضرورت نہیں۔بلکہ تمہیں بھی اس کے پورا کرنے کی کوشش کرنی پڑے گی۔خدائی وعدے کے یہ معنی ہیں کہ تم کمزور ہو۔اگر تم کمزور نہ ہوتے تو تم مکہ کو چھوڑ کر کیوں آتے۔مکہ کو چھوڑنے کے معنی ہی یہ تھے کہ تم کمزور ہو اور تمہارا دشمن مضبوط اور طاقتور ہے۔لیکن خدا تعالی تمہیں طاقت دے گا اور تم دشمن سے مکہ چھین لو گے۔