خطبات محمود (جلد 29) — Page 243
$1948 243 خطبات محمود کی دشمن نہیں بلکہ احمدیت ہی حقیقی اسلام ہے۔اور جو شخص انہیں احمدیت کے خلاف مائل کرے گا وہ اُس کی کی بات نہیں مانیں گے بلکہ سمجھ لیں گے کہ وہ انہیں اسلام کے خدمت گاروں کے خلاف لڑانا چاہتا ہے۔پس اس کی گتھی ذمہ داری جماعت پر ہے۔جماعت نے تبلیغ میں سستی کی اور سچائی کو لوگوں تک نہیں پہنچایا۔یہ لوگ جاہل ہیں اور احمدیت سے ناواقف ہیں۔مذہبی جوش میں آکر وہ ایسا کر جاتے ہیں۔وہ سمجھتے ہیں کہ ہم خدا تعالیٰ کو راضی کرنے کے لیے ایسا کر رہے ہیں مگر وہ نہیں جانتے کہ در حقیقت وہ خدا تعالیٰ کو ناراض کر رہے ہیں اور اُس کی تعلیم کے خلاف حرکات کر رہے ہیں۔چونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ جو کچھ وہ کر رہے ہیں ٹھیک کر رہے ہیں اس لیے دیوانگی کے ساتھ اُنہوں نے ایسا کیا۔اور اپنے خیال میں اُنہوں نے سمجھ لیا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کر رہے ہیں اور اُس کے رسول کی مدد کر رہے ہیں۔یہ احمدیت کی عدم اشاعت کا نتیجہ ہے۔یہ انہیں احمدیت سے ناواقف رکھنے کا نتیجہ ہے۔اگر یہ لوگ احمدیت سے واقف ہوتے تو یہ نتیجہ بھی نہ نکلتا۔چنانچہ جہاں جہاں بھی احمدیت سے لوگوں کو واقفیت ہوگئی ہے اگر چہ وہاں کے تمام لوگ احمدیت میں داخل نہیں ہوئے مگر وہ اتنے جوش میں بھی نہیں آتے۔کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ علماء انہیں غلط راستے پر لے جاتے ہیں۔بہر حال ایسے افعال احمدیت سے عدم واقفیت کی وجہ سے ہوتے ہیں اور ان کی تمام ذمہ داری جماعت پر ہے۔یہ تو نہیں ہو سکتا کہ غیر احمدی مولوی لوگوں کو احمدیت کی باتیں سنائیں۔بہر حال وہ تو احمدیت کو غلط طور پر ہی پیش کریں گے۔یہ احمدیوں کا اپنا فرض ہے کہ وہ دلیری اور بہادری سے احمدیت کا پیغام لوگوں تک پہنچائیں۔میں نے پہلے بھی کئی دفعہ کہا ہے کہ جماعت پوری طرح تبلیغ کی طرف توجہ نہیں کرتی۔تبلیغ یہ نہیں کہ کوئی آپ کے پاس آئے اور وہ آپ کی باتیں سن کر کہہ دے سُبحَانَ اللهِ! احمد یہ جماعت نے اسلام کی بہت بڑی خدمت کی ہے۔اور آپ کہیں بس تبلیغ ہوگئی۔یہ کوئی تبلیغ نہیں۔تبلیغ کے معنے یہ ہیں کہ اُن باتوں کو پیش کیا جائے جنہیں دوسرے لوگ نہیں مانتے ، اُن کے سامنے وہ چیزیں پیش کی جائیں جن کے متعلق دشمن انہیں اشتعال دلاتا ہے۔اُنہیں بتایا جائے کہ دراصل آپ کو غلط فہمی ہوئی ہے۔یہ تو سچائیاں ہیں اور آپ کو چاہیے کہ انہیں قبول کریں۔ویسے کسی کو گھر لے جا کر اور چائے پلا کر یہ بتادینا کہ ہم اسلام کی بڑی خدمت کر رہے ہیں یہ تبلیغ نہیں۔تبلیغ یہ ہے کہ اُن کے سامنے وہ تلخ باتیں پیش کی جائیں جن کو وہ تلخ سمجھتے ہیں اور جن کی وجہ سے وہ ہماری مخالفت کرتے ہیں۔