خطبات محمود (جلد 29) — Page 233
$1948 233 خطبات محمود ابتلا ہوتا ہے، آزمائش اور امتحان کا وقت ہوتا ہے۔سچی بات جب بھی کہی جائے گی سننے والے کو وہ کڑوی لگے گی۔اگر وہ ہماری کسی بات کی تعریف کر دیتے ہیں یا اس پر پسندیدگی کا اظہار کر دیتے ہیں تو اس کے یہ معنی نہیں ہوتے کہ وہ ہمارے عقائد کو صیح ماننے لگ گئے ہیں۔بلکہ وہ اس بات پر خوش ہوتے ہیں کہ ان کی کسی بات کی تصدیق ہوگئی ہے۔احادیث میں ایک واقعہ آتا ہے جو میرے نزدیک یہ کفار کی ایک سازش کا نتیجہ تھا مگر اس میں اس چیز کو بیان کیا گیا ہے۔وہ واقعہ اس طرح ہے کہ جب صحابہ کا ایک حصہ کفار کے مظالم سے تنگ آکر حبشہ کی طرف ہجرت کر کے چلا گیا تو کفار نے انہیں واپس بلانے کے لیے ایک فریب کیا۔اور وہ اس طرح کہ ایک دن جبکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سورہ نجم کی تلاوت فرما رہے تھے کسی کافر نے بڑی ہوشیاری کے ساتھ آپ کی پیٹھ کے پیچھے جا کر یہ فقرات پڑھ دیئے کہ جائے گی۔تلْكَ الْغَرَانِيقُ الْعُلَى وَإِنَّ شَفَاعَتَهُنَّ لَتُرْتَجِي 1 یعنی یہ بت بھی بڑا بلند مرتبہ رکھتے ہیں اور قیامت کے دن ان بتوں کی شفاعت بھی سنی یہ فقرات پڑھنے والے نے اس طرح پڑھے کہ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ گویا یہ آیات قرآنیہ ہیں جو آپ نے تلاوت کی ہیں اور مشہور کر دیا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیات بھی قرآن کریم میں بڑھا دی ہیں۔یہ ایک منصوبہ تھا جو ایسے وقت پر کیا گیا جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سجدہ کی آیت تلاوت فرما رہے تھے۔اس کے بعد جب آپ نے سجدہ کیا تو مشرکین بھی آپ کے ساتھ سجدہ میں چلے گئے اور بعد میں انہوں نے مشہور کر دیا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نَعُوذُ بِاللهِ دین توحید سے توبہ کرلی ہے اور اقرار کر لیا ہے کہ ان بتوں کی شفاعت بھی قبول ہوگی۔اس پر سارے خوش ہو گئے۔اس لیے کہ اس واقعہ سے ان کی ایک بات کی تصدیق ہوگئی تھی۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ ایک پرانا طریق چلا آرہا ہے۔آجکل ہی ایجاد نہیں ہوا۔دراصل انسانی فطرت کمزور ہوتی ہے اس لیے انسان تھوڑی سی تعریف پر خوش ہو جاتا ہے اور وہ سمجھتا ہے کہ خدمتیں تو ہوتی ہی رہتی ہیں۔چلو میری ایک بات کی تصدیق ہوگئی۔پس جن باتوں میں اتحاد و اتفاق پایا جاتا ہے ان پر ہر ایک خوش ہو جایا کرتا ہے۔اس سے ہمیں یہ نہیں سمجھ لینا چاہیے کہ اب رستہ کھل گیا ہے کہ ہم کامیاب ہو گئے ہیں