خطبات محمود (جلد 29)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 232 of 477

خطبات محمود (جلد 29) — Page 232

1948ء 232 24 خطبات محمود پورے جوش اور عزم و ہمت کے ساتھ دین کی خدمت کرنے اور اسے دنیا میں پھیلانے کی کوشش کرو (فرمودہ 13 اگست 1948ء بمقام کوئٹہ ) تشہد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: " مجھے آج کچھ حرارت اور سر درد کی شکایت ہے جس کی وجہ سے میں زیادہ دیر بول نہیں سکتا۔ مگر میں جماعت کو مختصر الفاظ میں اس امر کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ گو یہ عام قاعدہ ہے کہ جب بھی خدا تعالیٰ کا کوئی ما مورد نیا میں آتا ہے لوگ اس کی مخالفت کرتے ہیں اور اسے حقیر اور ذلیل خیال کرتے ہیں۔ مگر اس زمانہ میں جس مامور نے مبعوث ہونا تھا اور خدا تعالیٰ کی طرف سے لوگوں کی اصلاح کے لیے دنیا میں آنا تھا اس کے متعلق خصوصیت سے احادیث میں یہ خبر دی گئی تھی کہ اس سے اور اس کی تھا جماعت سے نفرت کی جائے گی اور لوگ ان کی شدید مخالفت کریں گے۔ میں دیکھتا ہوں کہ ہماری سے اور جماعت میں یہ احساس پایا جاتا ہے کہ اگر بعض لوگ جماعت احمدیہ کی تعریف کر دیتے ہیں یا کسی ایسی عقائد کے موافق ہو پسندیدگی کا اظہار کرتے ہیں تو ہماری جماعت کے دوست خوش ہو جاتے ہیں اور سمجھ لیتے ہیں کہ ہمیں کامیابی حاصل ہو گئی ہے حالانکہ یہ کامیابی نہیں ہوتی بلکہ ایک