خطبات محمود (جلد 29) — Page 216
1948ء 216 خطبات محمود ہے کہ اگر اس طرح آمد رہی تو یہ اتنا ضروری اور اہم کام چل سکتا ہے۔ ہمارا کام پہلے کی نسبت بہت زیادہ ہے۔ پھر قادیان میں جو لوگ جاتے ہیں وہاں ان کی کمائی کی کوئی صورت نہیں۔ ان پر بھی بہر حال سلسلہ کا خرچ آتا ہے۔ وہ اپنے کام بند کر کے قادیان چلے جاتے ہیں۔ ان کا بوجھ بھی سلسلہ نے اٹھانا ہے۔ پچھلے لوگوں کو تو ہم یہ کہہ دیتے ہیں کہ جس طرح ہو سکے گزارہ کیسے جاؤ لیکن جو لوگ قادیان میں ہیں وہ تو بالکل بے کار ہیں اور وہ کوئی کام کر ہی نہیں سکتے ۔ ان کے کھانے ، نہانے دھونے کے لیے صابن کا خرچ وغیرہ سلسلہ کو برداشت کرنا ہوگا۔ پھر قادیان میں جو مکانات ہمارے قبضہ میں ہیں ان کے ٹیکس بھی ہمیں ادا کرنے پڑتے ہیں۔ اگر ہم ان کے ٹیکس ادا نہ کریں تو حکومت ہمیں وہاں سے نکال دے گی ۔ ہم یہ عذر پیش نہیں کر سکتے کہ ان مکانات کے مالک یہاں نہیں ہیں اس لیے ہم ٹیکس ادا نہیں کر سکتے یا وہ ہیں تو یہاں مگر کچھ کما نہیں سکتے ۔ اگر ہم یہ کہہ دیں کہ ہم ٹیکس نہیں دے سکتے تو حکومت کے ہاتھ میں یہ ایک ہتھیار آ جائے گا کہ اچھا یہ ٹیکس نہیں دیتے ان کے مکان نیلام کر وادو۔ پس اگر ہم ان محلوں کو جو ہمارے قبضہ میں ہیں خالی کرنا نہیں چاہتے تو ہمیں ان مکانات کے ٹیکس ادا کرنے پڑیں گے اور پھر یہ سیدھی بات ہے کہ ایسی خطرناک جگہوں پر اور بہت سے اخراجات بھی کرنے پڑتے ہیں۔ پھر ہمیں ساری دنیا میں پرو پیگنڈا بھی کرنا ہے اور پروپیگنڈا کے لیے دوسرے ممالک میں ٹریکٹ وغیرہ بھی بھیجنے پڑتے ہیں اور اس سوال کو زندہ رکھنے کے لیے وزارتوں ، اسمبلیوں اور پارلیمنٹوں وغیرہ کے ساتھ تعلق تازہ رکھنا پڑتا ہے اور ان جماعتوں میں پرو پیگنڈا کرنا پڑتا ہے۔ دوسری قو میں اگر اس کام کو کرنا چاہیں تو ایک لاکھ روپیہ فی مہینہ سے بھی اس کام کو نہیں چلا سکتیں لیکن ہمارا کام تو بہت تھوڑے پیسوں سے ہو رہا ہے مگر پھر بھی اخراجات اوسطاً پچیس تیس ہزار روپیہ سے کم نہیں ۔ اگر پندرہ سو روپیہ ماہوار کی ہی آمد رہی تو ہم مجبور ہو کر قادیان کے دوستوں سے کہہ دیں گے کہ وہ سے قادیان خالی کر کے آجائیں۔ اس لیے کہ تمہاری قوم تمہاری حفاظت کے لیے تیار نہیں۔ مجھے یہ معلوم نہیں کہ آیا کوئٹہ کی جماعت اپنا حق ادا کر چکی ہے یا نہیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ ایک سال کے وعدے تھے جس پر ڈیڑھ سال سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے اور ابھی تک جماعت کے دوستوں نے اپنے وعدوں کی ادائیگی کی طرف کوئی توجہ نہیں کی۔ اب تو دوسرے سال کا مطالبہ ہونا چاہیے تھا مگر ابھی تک پچھلے سال کے وعدے بھی ادا نہیں ہوئے ۔ یہ خطبہ تو شائع ہو جائے گا اور دوسری جماعتوں میں بھی جائے گا