خطبات محمود (جلد 29) — Page 209
1948ء 209 خطبات محمود تو پھر وہ اس نیکی سے بھی محروم ہو جائے گا۔ کبھی بھی کوئی اُسے مزید قربانی کی تحریک نہیں کرے گا۔ لیکن اگر وہ سو میں سے دس دیتا تو پھر کبھی نہ کبھی اُسے اپنے چندہ میں زیادتی کرنے کا خیال آجاتا اور وہ چندہ دس فیصدی سے زیادہ زیادہ کر کر کردیتا دیتا۔ لیکن اگر اگروہ وہ پہلے ہی ہی غلط غلط آمدنی لکھا کھا کھا کر آخری حد حدیت حدتک تک پہنچ پہنچ جاتا ہے تو چندے مانگنے والے جب اُس کے پاس پہنچیں گے تو وہ یہی سمجھیں گے کہ یہ تو پہلے ہی آخری حد تک پہنچا ہوا ہے اس کو نیک تحریک کی ضرورت ہی نہیں ۔ ایسا شخص تو یہ چاہتا ہے کہ فرشتے بھی اُس کے پاس نہ آئیں۔ لوگ تو یہ دھوکا کھا جائیں گے کہ جتنی وہ قربانی کر سکتا تھا اُس نے کر دی ہے مگر وہ ایسا کرنے سے خدا کو دھوکا نہیں دے سکتا۔ ایک شخص اگر یہ کہتا ہے کہ وہ 24 گھنٹے مصلی پر ہی بیٹھا رہتا ہے تو اُسے مزید عبادت کے لیے کیا کوئی تحریک کر سکتا ہے۔ دن میں 25 گھنٹے تو ہو نہیں سکتے اور نہ اس سے زیادہ ہو سکتے ہیں۔ پس جب وہ کہتا ہے کہ میں 24 گھنٹے مصلی پر ہی بیٹھا رہتا ہوں تو پھر اُسے مزید عبادت کی تحریک کیسے ہو سکتی ہے۔ اگر وہ غلط بات بتا دے گا تو اُسی کے ساتھی اور دوست بھی اسے کوئی مزید تحریک نہیں کر سکتے اور نہ ہی اُس کے خیر خواہ اُسے نیکی کی طرف راغب کر سکتے ہیں ۔ وہ یہ سمجھیں گے کہ یہ تو پہلے ہی قربانی کی انتہا کو پہنچا ہوا ہے۔ اسے اور کیا تحریک کریں ۔ غرض اس طرح وہ نیک تحریک سے بھی محروم ہو جائے گا اور دوستوں کو بھی اُس کے حالات ٹھیک کرنے اور درست کرنے کا موقع نہیں ملے گا۔ دوسری بات جس کی طرف میں جماعت کو توجہ دلانا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ رمضان آنے والا ہے اور شاید اگلا جمعہ رمضان میں ہی آئے ۔ میں کوئٹہ اس نیت سے آیا تھا کہ تا میں روزے رکھنے کے قابل ہو سکوں ۔ مگر جب سے میں یہاں آیا ہوں میری طبیعت خراب ہے۔ سندھ میں میں بالکل اچھا رہا ہوں ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ بیماریاں بھی آتی رہی ہیں مگر طبیعت میں طاقت تھی اور کام کرنے کو جی چاہتا تھا مگر یہاں یہ حالت ہے کہ میں بیٹھ کر کام نہیں کر سکتا۔ جی یہی اورکام کوجی چاہتاتھامگر چاہتا ہے کہ چار پائی پر لیٹا رہوں اور لیٹ کر ہی کام کروں ۔ چار پائی سے اُٹھنے کی ہمت نہیں پڑتی ۔ لیکن تمہیں یہ چیز میسر ہے اور پھر یہاں سردی بھی ہے۔۔ باہر دوسرے علاقوں میں تو خدا تعالی کے فضل سے بعد میں طبیعت ٹھیک ہوگئی اور صرف چند روزے بیماری کی وجہ سے رہ گئے ۔ باقی روزے رکھنے کی خدا تعالیٰ کے فضل سے توفیق مل گئی۔