خطبات محمود (جلد 29)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 203 of 477

خطبات محمود (جلد 29) — Page 203

1948ء 203 خطبات محمود سے وہ سب سے زیادہ ہوشیار اور زیادہ مستعد معلوم ہوئے اور میں نے دیکھا کہ وہ صحیح طور پر کام کرنے والے ہیں۔ میں نے ان پر جر میں بھی کیں اور بتایا کہ حسابات کو اس طرح بھی پر کھا جا سکتا ہے۔ شروع میں وہ رکے۔ بعد میں اپنی کا پی نکال کر رکھ دی اور بتایا کہ میں نے حسابات کو اس طرح بھی پرکھا ہے۔ حسابات میں اگر چہ بہت سی خامیاں اب بھی ہیں مگر پھر بھی اُنہوں نے بڑی محنت سے کام کیا ہے اور نہ صرف محنت سے کام کیا ہے بلکہ عقل سے بھی کام کیا ہے۔ دنیا میں ہزار ہا آدمی ایسے ہوتے ہیں جو محنت کرتے ہیں، لاکھوں ایسے ہوتے ہیں جو پوری کوشش اور جدو جہد کرتے ہیں مگر اُن کی سب کوششیں رائیگاں جاتی ہیں۔ اُن کی محنت کا کوئی نتیجہ نہیں نکلتا کیونکہ وہ عقل سے کام نہیں لیتے ۔ مگر ایک اور شخص آتا ہے وہ ایک نیا راستہ تلاش کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے۔ اس کے ذہن کو روشنی مل جاتی ہے اور وہ اُس کام کو صحیح طور پر کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے۔ اسی طرح یہاں کے فنانشل سیکرٹری نے عقل سے کام لے کر کام کو مکمل کرنے کی کوشش کی ہے مگر پھر بھی ترقی کی ابھی کافی گنجائش ہے۔ بعض احباب نے صحیح تشخیص اپنی آمد کی نہیں بتائی۔ بہر حال انہوں نے کوشش کی ہے۔ اگر وہ مزید کوشش کریں اور احباب جماعت اُن کے ساتھ تعاون کریں تو یقیناً کوئٹہ کا یہ محکمہ اپنے رنگ میں باقی جماعت کے لیے مثال بن جائے گا۔ یہ اور اس کی آمد پس میں جماعت کو نصیحت کرتا ہوں کہ انہیں اس طرف توجہ کرنی چاہیے ۔ انہیں چاہیے کہ وہ تمام افراد جماعت پر واضح کر دیں کہ صرف ظاہری طور پر چندہ کا بڑھا دینا عزت کا موجب نہیں مثلاً ایک شخص کی آمدن سور و پیہ ہے اور وہ چالیس روپے بتاتا ہے اور اپنی آمد کا پچاس فیصدی چندہ دیتا ہے۔ یه مخلص ترین انسان ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہوگی کہ اس نے چالیس میں سے ہیں دیئے اور اس چالیس نہ تھی بلکہ سو تھی اور سو میں سے ہیں دینے کے معنے یہ ہوئے کہ اس نے ہمیں فیصدی چندہ دیا۔ اسے چاہیے تھا کہ سو میں سے پچاس چندہ دیتا۔ اور یا پھر کہہ دیتا کہ وہ بیس فیصدی چندہ دے گا اور یہ اُس کے لیے زیادہ مناسب ہوتا۔ ایسا کرنے والا شخص ، انسان کو دھوکا دے سکتا ہے مگر خدا جو عالم الغیب ہے اُسے دھوکا نہیں دے سکتا۔ انسانی معلومات ناقص ہو سکتی ہیں اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ چندہ دینے والا زیادہ چست اور چالاک ہو، زیادہ تیز اور تند ہو۔ وہ چندہ لینے والے سے بگڑ بیٹھے اور کہے کہ جو میں کہتا ہوں وہ صحیح ہے ہم اُس کی بات مان لیں۔ پھر وہ پھسلنے والا بھی ہو سکتا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ ہم اُس کے گھر