خطبات محمود (جلد 29)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 175 of 477

خطبات محمود (جلد 29) — Page 175

1948ء 175 خطبات محمود ریز رو رکھا جائے ۔ مگر یہ ایسی صورت میں ہو سکتا ہے جب چندہ دینے والا صد را انجمن احمد یہ کو اور مقامی سیکرٹری کو اطلاع دے دے کہ پہلے میرا چندہ اتنا تھا اب میں اتنا دوں گا۔ اس میں سے اتنی ریز ورفنڈ کی رقم ہوگی جو محفوظ رہنی چاہیے اور اتنی تحریک جدید کی ہوگی ورنہ وہ ساری رقم صدرانجمن احمد یہ کے عام وہ رقم چندوں میں داخل کر لی جائے گی اور اُسے نئے سرے سے چندہ دینا ہو گا یا صدرانجمن احمد یہ سے جھگڑا شروع کرنا پڑے گا۔ اب تک یہی ہو رہا ہے کہ جو رقم آتی ہے صدرانجمن احمد یہ اُسے اپنے کھاتہ میں جمع کر لیتی ہے۔ جب تحریک جدید نے اپنے حصہ کا مطالبہ کیا تو ان کو مشکل پیش آ گئی۔ اور اس سے زیادہ مشکل اُن لوگوں کو ہو گی جنہوں نے چندہ دیا ہے۔ دفتر والے مانگیں گے وہ کہیں گے کہ ہم نے چندہ دے دیا ہے مگر تحریک والے کہیں گے کہ تمہاری طرف سے کوئی چندہ نہیں آیا۔ پس ہر چندہ دینے والا ان پر یہ واضح کر دے کہ اتنا چنده صدرانجمن احمد یہ کا ہے، اتنا وصیت میں وضع کر لیا جائے ، اتنا تحریک میں ے دیا جائے اور باقی رو پیریز روفنڈ میں داخل ہو۔ یا لکھ دیں کہ یہ روپیہ تمبر کی تحریک میں جمع کر لیا جائے ۔ کیونکہ یہ تحریک ستمبر 1947 ء میں جاری ہوئی تھی ۔ اس لیے ریز ورفنڈ کی جگہ اُس کا نام تحریک ستمبر مناسب رہے گا۔ بہر حال عام قاعدہ یہی ہوگا کہ نئے مرکز کا چندہ اُس سے وضع کر لیا جائے گا۔ مگر یہ بھی ہو سکتا ہے جب سب دوست یہ واضح کر دیں کہ پہلے میں اتنا چندہ دیا کرتا تھا اب اتنا دوں گا اور اس میں سے پہلے چندہ کی رقم کاٹ کر باقی روپیہ تحریک ستمبر میں داخل کیا جائے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم نے تمہاری کمزوری کو دیکھتے ہوئے تخفیف کر دی ہے۔5 میں نے بھی یہ دیکھ کر کہ تم ابھی اُس مقام تک نہیں پہنچے جو کامل ایمان کا مقام ہوتا ہے اپنے مطالبہ میں تخفیف کر دی ہے۔ قرآن مجید کا مفہوم تو اور ہے مگر کمزور ایمان والے اس کے یہی معنے لیتے ہیں اور میں نے بھی انہیں معنوں میں تخفیف کی ہے۔ پس اس تحریک کی آئندہ یہ صورت ہو گی کہ ساڑھے سولہ فیصدی سے 33 فیصدی تک چندہ دینا ہوگا۔ اور جو لوگ اس مقام پر نہ پہنچ سکیں اُن کے لیے کم سے کم ایمان کا مظاہرہ یہ ہوگا کہ وہ وصیت کر دیں۔ کوئی مرد، کوئی عورت اور کوئی بالغ بچہ ایسا نہ رہے جس نے وصیت نہ کی ہو تا دنیا کو معلوم ہو جائے کہ تم میں حقیقی ایمان پایا جاتا ہے اور قادیان کے کھوئے جانے کی وجہ سے مقبرہ بہشتی یا اُس کے نظام کے متعلق تمہیں کسی قسم کا شک و شبہ پیدا نہیں ہوا۔ میں پھر یہ واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ چندہ دینے والوں کو یہ بتا دینا چاہیے کہ پہلے وہ اتنا چندہ