خطبات محمود (جلد 29)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 164 of 477

خطبات محمود (جلد 29) — Page 164

$1948 164 خطبات محمود چلا گیا۔وہاں ایک دینار کے دو بکرے مل گئے۔مدینہ آکر میں نے ایک بکرا ایک دینار میں بیچ دیا۔اب یہ بکرا بھی حاضر ہے اور دینار بھی حاضر ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سن کر اُس صحابی کو کوئی سزا نہیں دی۔یہ نہیں فرمایا کہ تو بہت نالائق ہے، تو بکر ابھی لے آیا اور دینار بھی واپس کر رہا ہے بلکہ فرمایا خدا تعالیٰ تمہارے کاموں میں برکت دے۔پھر اُس صحابی کے کاموں میں اتنی برکت پیدا ہوئی کہ صحابہ کہتے ہیں اگر وہ مٹی کو بھی ہاتھ لگاتا تو سونا بن جاتی۔لوگ آتے اور اُس کے گھر میں روپیہ دے کر کہتے کہ کسی ایک تجارت میں ہی ہمارا حصہ ڈال لو۔پس عقل اور سمجھ سے کام لیتے ہوئے اگر کسی کی صفائی زیادہ ہو تو بری بات نہیں اچھی بات ہے۔میری ایک شادی ہوئی۔اُس بیوی کی والدہ انتظامی معاملات میں کچھ کچھی تھیں۔انہوں نے لڑکی کو بستر دیتے وقت ایک گدیلا بھی ساتھ رکھ دیا اور کہا کہ اگرلڑ کی ایک گدیلا کہیں پھینک دے تو دوسرا استعمال کر لینا۔اُن کی اس بات پر اب بھی ہمارے خاندان میں ہنسی ہوا کرتی ہے۔انہوں نے خیال کیا کہ جس طرح میں اپنی چیزوں کو سنبھال کر رکھنے کی عادی نہیں اس طرح یہ بھی ہوگی۔ایسی حالت میں یہ گدیلا اُس کے کام آجائے گا۔پس ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں۔مگر وہ بھی ہوتے ہیں جو چیز کو سنبھال کر رکھنے کے عادی ہوتے ہیں۔ایسی چیز خواہ کتنی ہی پرانی ہو جائے لوگوں کو اچھی نظر آتی ہے۔میں دیکھتا ہوں کہ میرا لباس اور دوسری چیزیں عام طور پر دیر تک چلتی چلی جاتی ہیں اور پھر اس قد راکٹھی ہو جاتی ہیں کہ میں اُن کو بانٹ دیتا ہوں۔پھر دوبارہ یہ سلسلہ اسی طرح پر چل پڑتا ہے۔لباس کو بار بار بدلنا اور اُس کے متعلق خاص احتیاط سے کام لینا یہ مجھے پسند نہیں۔جب میں ولایت گیا تو میں دوکوٹ بنوا کر اپنے ساتھ لے گیا تھا۔اُن میں سے میں نے صرف ایک ہی استعمال کیا۔دوسرے کو چھوا بھی نہیں۔دوستوں نے کہا بھی کہ اس کا بُرا اثر پڑے گا مگر میں اُن سے یہی کہتا کہ یہ ان لوگوں کے نزدیک معیوب بات ہے ہمارے نزدیک تو معیوب نہیں۔چنانچہ جس لباس میں میں گیا تھا اُسی میں واپس آگیا۔وہاں کے لحاظ سے یہ بات معیوب ہو گی مگر یہاں کے لحاظ سے ہمیں تو بُرا لگتا ہے کہ بار بار کپڑے بدلنے پر وقت ضائع کیا جائے۔بہر حال پھوہڑ پن 6 قابل ملامت چیز ہے اور عقل قابلِ تعریف چیز ہے۔اسراف قابل الزام چیز ہے اور عقل اور سمجھ سے کام لے کر چیزوں کو سنبھال کر رکھنا قابلِ تعریف چیز ہے۔