خطبات محمود (جلد 29)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 157 of 477

خطبات محمود (جلد 29) — Page 157

$1948 157 خطبات محمود سے دو بچے تھے۔تیسرا اُن کی وفات کے قریب پیدا ہوا۔میں تھا، نوکر تھا پھر اوپر کے اخراجات لباس وغیرہ کے متعلق تھے مگر ان سب اخراجات کو ملا کر ہمارا بجٹ ہمیشہ 59 روپے مہینہ ہوتا تھا لیکن اعتراض کرنے والے اُس وقت بھی اعتراض کرتے تھے۔ایک دفعہ ایک شخص نے لکھا کہ میری بیوی کہتی ہے آپ کی بیویوں کے پاس پانچ پانچ سو روپے کا ایک ایک جوڑا ہے۔میں نے اُن سے کہا کہ وہ بڑے شوق سے آجائیں۔میں اپنی بیویوں کے ٹرنک لا کر ان کے سامنے رکھ دیتا ہوں۔وہ پانچ پانچ سو کے جوڑے ہمیں دیتی جائیں اور ہمارے کپڑے خود اُٹھا کر لے جائیں۔اس طرح ہمارا ہی فائدہ ہوگا اُن کا نہیں۔بلکہ اگر ہمارے سارے کپڑے اور جوتیاں وغیرہ ملا کر بھی پانچ سو سے کم کے ہوئے تو انہیں کم از کم ایک جوڑا تو پانچ سو کا ہمیں ضرور دینا پڑے گا۔ہے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ہمارے گھر میں گوٹہ کناری بھی استعمال کرنے والے ہیں مگر ایک بھی نہیں جس نے ان دنوں گوٹہ کناری خریدا ہو۔پھر بات کیا ہے؟ بات وہی سلیقہ اور ہنر والی آجاتی۔ہماری والدہ ہندوستانی ہیں اور اس وجہ سے ہمارے ہاں دلّی کا رواج ہے اور دتی کی عورتیں گوٹہ کناری کو ایسا سنوار کر رکھنا جانتی ہیں کہ ہماری والدہ کو اُن کی دادی کے لباس جہیز میں ملے تھے اور وہ ہم کو دکھایا کرتی تھیں بلکہ دتی والے تو سو سو سال تک بھی گوٹہ لے جاتے ہیں۔پس یہ تو ٹھیک ہے کہ ان میں سے بعض گوٹہ کناری استعمال کرتی ہیں مگر یہ گوٹہ وہی ہے جو اُن کی شادیوں پر خریدا گیا تھا۔اُس کے بعد انہوں نے نہیں لیا یا تحریک جدید کے بعد نہیں لیا۔گوٹہ کناری والے کپڑے ایسے ہی ہیں جو یا تو بیویوں کو بری میں دیئے گئے تھے یا جہیز میں آئے تھے۔ابھی چند دن ہوئے میں نے اپنی بڑی لڑکی ناصرہ کے جہیز کے ایک جوڑے کے متعلق پوچھا۔اُس کی شادی 1933ء میں ہوئی تھی جس پر چودہ سال گزر چکے ہیں۔اُس وقت میں نے اُس کو ایک سنہری کام والا کپڑا خرید کر دیا تھا جو مجھے بہت پسند آیا تھا۔میں نے اُس سے پوچھا کہ کیا وہ جوڑا اُس کے پاس ہے؟ اُس نے کہا وہ اب تک محفوظ ہے۔اب وہ اُس لباس کو کہیں استعمال کر لے تو یہ قابلِ اعتراض بات نہیں ہوگی۔دیکھنے والے میں اگر عقل کا مادہ ہو تو اُسے پہلے یہ پوچھنا چاہیے کہ یہ کپڑے کب کے بنے ہوئے ہیں؟ اگر جواب میں اُسے یہ بتایا جائے کہ یہ 1934ء کے بعد کے ہیں تب تو قابلِ اعتراض امر ہے لیکن اگر وہ کہے کہ میں نے دیر سے سنبھال کر رکھے ہوئے ہیں تو یہ قابلِ تعریف بات ہوگی اور اس بات کی علامت ہوگی کہ وہ بڑے اقتصادی دماغ وه