خطبات محمود (جلد 29)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 156 of 477

خطبات محمود (جلد 29) — Page 156

خطبات محمود 156 1948ء کھانا کھاتے ہیں اور اس طرح 45 کی بجائے 35 آدمی کھانا کھانے والے بن جاتے ہیں ۔ مگر یہ بھی نصف چھٹانک فی کس سے کم بنتا ہے حالانکہ بہت سے گھر ایسے ہیں جن میں چھٹا نک چھٹانک ڈیڑھ ڈیڑھ چھٹانک فی کس گوشت استعمال کیا جاتا ہے۔ لیکن اگر وہ ہمارے گھر کا کھانا دیکھ لیں تو شور مچانے لگ جائیں کہ یہ کھانا زیادہ اچھا ہے۔ اصل میں کھانا پکانے کی بہت سی مجزئیات ہوتی ہیں ۔ اگر یہ میں کھانا صحیح طور پر پکایا جائے ، گوشت کو اچھی طرح گلایا جائے تو بہت تھوڑی سی چیز میں نہایت اچھا کھانا تیار ہو سکتا ہے۔ میں ایک دفعہ راجپورہ گیا۔ میرے پاس بائیس تئیس آدمی تھے۔ گوشت سبزی وہاں نہیں ملتی بلکہ بعض دفعہ دال تک بھی میسر نہیں آتی۔ میں نے کہا چلو مرغی لے کر اُس کا شور باہی پکا لو۔ میرا ، ربا خیال تھا کہ شور با اتنا بن جائے گا کہ وہ بائیس تئیس آدمیوں کو کافی ہوگا۔ مگر میں نماز پڑھ کر بیٹھا ہی تھا کہ ایک برات آگئی اور اُنہوں نے کہا کہ ہم نکاح پڑھوانا چاہتے ہیں۔ اس برات میں 35 کے قریب آدمی تھے۔ میں نے اُم طاہر مرحومہ کو اندر رقعہ لکھا کہ چیز تو یہاں ملتی کوئی نہیں اور 35 مہمان آگئے ہیں ۔ اب اس کی تدبیر کچھ اس طرح کرو کہ مجھے اندر بلا لو۔ ہم سب فاقہ کر لیں گے اور ان کو کھانا کھلائیں گے۔ انہوں نے کہا میں نے باورچی سے بات کر لی ہے۔ اُس نے کہا ہے کہ میں اسی میں 55 آدمیوں کو بھگتا لوں گا۔ آپ کوئی فکر نہ کریں ۔ میں اُن سے باتیں بھی کروں اور دل بھی دھڑ کے اب بنے گا کیا؟ پہلے خیال تھا کہ شاید وہ نہ ٹھہریں۔ مگر چونکہ وہ دُور سے آئے تھے اس لیے میں نے اُم طاہر مرحومہ سے کہا کہ غالبا وہ یہاں ٹھہریں گے۔ اگر ایسا ہوا تو یہی صورت ہے کہ اُن کو کھانا کھلا دو ہم سب فاقہ کر لیں گے۔ تھوڑی دیر کے بعد کھانا آ گیا۔ شور با نہایت مزیدار پکا ہوا تھا۔ ہم سب نے خوب پیٹ بھر کر کھایا۔ اس کے بعد میں گھر گیا اور پوچھا کہ باہر تو گزر گئی۔ تم نے بھی کچھ کھایا یا نہیں ؟ انہوں نے کہا کہ ہم سب نے کھا لیا ہے۔ اب یہ اُس باورچی کا کمال تھا کہ اس نے بوٹی اور ہڈی کو اس طرح گلا دیا کہ پانی کے اندر بھی شور بے کا مزہ آنے لگا۔ ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب مرحوم جب زندہ تھے اُن کا میرے ساتھ ہمیشہ یہی جھگڑا رہتا تھا۔ وہ کہتے تھے کہ میں مان ہی نہیں سکتا کہ اتنے تھوڑے روپیہ میں گزارہ ہو سکتا ہے۔ اس وقت ہمارا سات روپیہ مہینہ فی کس ناشتہ اور کھانے پر خرچ آتا تھا۔ مجھے یاد ہے امۃ الحی مرحومہ جب تک زندہ رہیں میں سات روپیہ فی کس کے حساب سے خرچ دیا کرتا تھا۔ اُس وقت اُن کے بطن