خطبات محمود (جلد 29)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 154 of 477

خطبات محمود (جلد 29) — Page 154

1948ء 154 خطبات محمود باقی رہا لباس کا سوال سولباس آجکل جس قدر گراں ہے وہ سب کو معلوم ہے ۔ دو دو اڑھائی اڑھائی روپے میں آجکل لٹھے کا ایک گز آتا ہے۔ اس سے سمجھا جا سکتا ہے کہ لباس میں تعیش یا جا آرائش کا خیال بہت بڑی رقم کے ساتھ ہی کیا جا سکتا ہے اور رقم جومیں دیتا ہوں اُس کا علم بھی مجھ کو ہی جاسکتا ہے اور رقم ہو سکتا ہے اور میں سمجھ سکتا ہوں کہ اُس رقم میں سے کس حد تک اخراجات کیے جا سکتے ہیں۔ جنگ سے پہلے میں اپنی بیویوں کو پندرہ روپے ماہوار دیا کرتا تھا ( یہ بھی قریب کی بات ہے ورنہ شروع میں سات روپے ہی ماہوار کپڑے اور دوسرے اخراجات کے لیے دیا کرتا تھا) لیکن جب سے جنگ شروع ہوئی ہے میں اپنی بیویوں کو تیس روپے ماہوار دیا کرتا ہوں ۔ میری بڑی بیوی جب سے لاہور آئی ہیں وہ ساری کی ساری رقم انجمن میں بھیج دیتی ہیں اور اُن کے پاس صرف صفر رہ جاتا ہے۔ اب وہ خاتون خود ہی سوچیں کہ صفر میں کتنی عیاشی کی جاسکتی ہے۔ میری باقی بیویوں کے اخراجات کا بھی آسانی کے ساتھ پتہ لگ سکتا ہے۔ وصیت سب نے کی ہوئی ہے، تحریک جدید کے دفتر سے پوچھ لیں کہ وہ تحریک میں کتنا چندہ دیتی ہیں ۔ پھر لجنہ اماءاللہ کا چندہ بھی دیتی ہیں ۔ یہ چندہ کم از کم پندرہ روپے ماہوار جا پڑتا ہے اور زیادہ سے زیادہ پندرہ روپے اُن کے پاس باقی رہ جاتے ہیں۔ اگر یہ سارے کے سارے کپڑوں پر ہی لگا دیئے جائیں تو سال میں وہ صرف چھ سات جوڑے لٹھے اور ململ کے بنا سکتی ہیں۔ اب وہ خاتون خود ہی سوچیں کہ وہ کون سی عیاشی ہے جو اس رقم میں ہو سکتی ہے۔ یہ تو میں نے عقلی دلیل دی ہے باقی اُن کے لباس مجھے نظر آتے ہیں۔ یہ تو نہیں کہ وہ دروازے بند کر لیتی ہیں اور صرف لجنہ کے ممبروں کو کہتی ہیں کہ آؤ اور ہمارے لباس دیکھ لو۔ سب سے زیادہ میری ہی نظر اُن کے لباس پر پڑتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ پچھلے سات آٹھ ماہ میں ان میں سے ہر ایک کے لباس اتنے بوسیدہ ہو چکے ہیں کہ ان کے پاس کوئی جوڑا بھی ایسا نہیں جو کئی جگہ سے سلا ہوا نہ ہو۔ اسی وجہ سے بعض دفعہ تحفہ کے طور پر جب لٹھا یا ململ بعض سے یہ دوست مجھے دے جاتے ہیں تو میں اُس میں سے کبھی کسی کو پاجامہ یا کوئی اور کپڑا بنوا دیتا ہوں جس سے ں اس میں سے بھی ہے گزارہ ہوتا رہتا ہے۔ مگر اس کے باوجود یہ اعتراض کیوں پیدا ہوا؟ اصل بات یہ ہے کہ بعض عورتیں انتظام اچھا جانتی ہیں اور بعض اچھا انتظام کرنا نہیں جانتی ہیں۔ اس انتظام کے اچھا یا برا ہونے کی وجہ سے بہت بڑا فرق پیدا ہو جاتا ہے۔ اچھا انتظام کرنے والے تھوڑے روپیہ میں اچھا گزارہ کر لیتے ہیں اور ناقص انتظام والے زیادہ روپیہ میں بھی اچھا گزارہ نہیں کر سکتے ۔