خطبات محمود (جلد 29) — Page 152
خطبات محمود 152 $1948 دیکھو یہ کیسی شاندار مثال ہے جو صحابہ کی زندگی میں ہمیں نظر آتی ہے کہ ایک نوجوان کسی لڑکی کی سے شادی کرنا چاہتا تھا۔پردہ کا حکم اُس وقت نازل ہو چکا تھا۔اس نوجوان نے چاہا کہ وہ لڑکی کی شکل بھی دیکھ لے مگر چونکہ پردہ کا حکم نازل ہو چکا تھا لڑکی کے باپ نے اُس کو نا پسند کیا اور کہا کہ شادی کرو یا نہ کرو میں تمہیں ایسا کرنے کی اجازت نہیں دے سکتا۔اُس نوجوان نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت کی کہ یا رسول اللہ ! میں فلاں لڑکی سے شادی کرنا چاہتا ہوں اور تو سب باتیں مجھے پسند ہیں صرف میں لڑکی کو دیکھنا چاہتا ہوں مگر لڑکی کا باپ اجازت نہیں دیتا۔آپ نے فرمایا ہاں شادی کی غرض سے لڑکی کو دیکھ لینا جائز ہے۔تم میری طرف سے یہ کہہ دو۔اُس نوجوان نے لڑکی کے باپ سے جا کر یہ بات کہہ دی مگر اُس نے کہا مجھ سے تو یہ بے غیرتی برداشت نہیں ہو سکتی۔لڑکی پردے کے اندر بیٹھی ہوئی یہ باتیں سُن رہی تھی۔جب اُس نے یہ بات سنی کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تو شکل دیکھنے کی اجازت دی ہے مگر میرا باپ اس پر رضامند نہیں تو وہ خود پردہ اُٹھا کر باہر آگئی اور کہنے لگی۔اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جاؤ اور لڑکی کو دیکھ لو تو میرے باپ کا کیا حق ہے کہ وہ اس میں روک بنے۔لو مجھے دیکھ لو۔میں سامنے کھڑی ہوں۔1 دیکھو وہ اُس کا باپ تھا اور وہ اُس کے گھر میں پل رہی تھی۔مگر پھر بھی اُس نے دین کے معاملے میں اپنے باپ سے اختلاف کر لیا۔یہ خیال درست نہیں کہ پرانے زمانہ میں لڑکیاں شادی کے موقع پر بول پڑا کرتی تھیں حقیقت یہ ہے کہ جس طرح اس زمانہ میں لڑکیاں شادی کے موقع پر خاموش رہتی ہیں اسی طرح پرانے زمانے میں بھی خاموش رہا کرتی تھیں۔اسی لیے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ رَضَاءُ هَا سُكُوتُهَا 2 اُس کی خاموشی ہی اُس کی رضا ہے۔مگر باوجود اس کے کہ شریعت نے اس معاملہ میں اپنے حکم کے معنی بدل دیئے ہیں اور لڑکی کی خاموشی کو اُس نے رضا قرار دے دیا ہے۔پھر بھی جب دین کا معاملہ آیا لڑ کی دلیری سے باہر نکل آئی اور اُس نے کی کہا جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لڑکی کو دیکھنے کی اجازت دی ہو تو اور کون اس میں روک بن سکتا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ آزادی اور حریت ہی ایسی چیزیں ہیں جو سچا ایمان پیدا کر سکتی ہیں۔اگر یہ حریت حاصل ہو تو نہ عورت کے ساتھ خاوند مرتد ہو سکتا ہے اور نہ خاوند کے ساتھ عورت مرتد ہو سکتی ہے۔یہی ایمان ہے جو لوگوں کو پختہ کار بناتا ہے اور جس کے ہوتے ہوئے کسی قسم کا ابتلاء نہیں آ سکتا۔ہر شخص پنے ایمان پر کھڑا ہوگا۔یہ نہیں ہوگا کہ خاوند بیوی کے ایمان پر کھڑا ہو اور بیوی خاوند کے ایمان پر کھڑی ہو۔