خطبات محمود (جلد 29)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 141 of 477

خطبات محمود (جلد 29) — Page 141

1948ء 141 خطبات محمود وہ رونے لگے گا اور کہے گا حکیم ایسے نالائق ہوا کرتے ہیں کہ میرا بیٹا پیاسا مر گیا۔ یا کسی شخص کا بچہ مر رہا تھا تو باہر ایک عورت یہ آوازیں دے رہی تھی لے لو مولیاں، لے لو گاجریں۔ وہ یہ آواز سنے گا تو اُسے کوئی اہمیت نہیں دے گا لیکن دوسرے دن جو نہی یہ آواز اُس کے کانوں میں آئے گی اُس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگیں گے کیونکہ اس آواز سے اُسے یہ واقعہ یاد آجائے گا کہ کل جب میرا بچہ مر رہا تھا اُس وقت بھی یہی آواز آئی تھی کہ لے لو مولیاں، لے لو گاجریں۔ گویا مولیوں اور گاجروں کی آواز اُسے اپنے بچے کی موت یاد دلا دے گی اور اسے رونا آجائے گا۔ غرض ایک شخص کو جس وقت رونا آتا ہے دوسرے شخص کو اُس وقت رونا نہیں آتا۔ اور وہ مصیبت زدہ اُس وقت رو لیتا ہے۔ لیکن جب سب کے سب لوگ ایک ہی قسم کی مصیبت میں مبتلا ہوں تو اُس وقت رونا بے معنی معلوم ہوتا ہے اور حواس پر ایسا اثر ہوتا ہے کہ افسوس کرنا کچھ بے حیائی سی معلوم ہوتی ہے کیونکہ انسان سوچتا ہے کہ اگر میں رویا یا میں نے افسوس کیا تو دوسرے لوگ جو میری جیسی مصیبت میں مبتلا ہیں اور رو نہیں رہے، افسوس نہیں کر رہے۔ میری نسبت کیا کہیں گے ۔ اور اسی طرح رونے اور افسوس کرنے کا وقت ملتا جاتا ہے۔ اسی لیے کہتے ہیں مرگ انبوہ جشنی دارد جب اکٹھی مصیبت آتی ہے تو ایک دوسرے کے جذبات اور ایک دوسرے کی کیفیات میں اطمینان اور سہارے کی صورت پیدا ہو جاتی ہے۔ اس وقت جو ہمارے ملک پر مصیبت آئی ہے اس سے اربوں ارب کم حصہ پر خون بہائے جاتے ہیں، اِس سے اربوں ارب کم حصہ پر تباہیاں واقع ہو جاتی ہیں ، اِس سے اربوں ارب کم حصہ پر مقدمات ہوتے اور آپس میں لڑائیاں لڑی جاتی ہیں، اس سے اربوں ارب کم حصہ پر سر پھٹول ہو جاتا ہے اور اس سے اربوں ارب کم حصہ پر شہروں اور گاؤں اور قصبوں بلکہ ضلعوں تک کے امن برباد ہو جاتے ہیں۔ قصبہ کی ایک عورت اُدھال 1 لی جاتی ہے تو سارے آدمی کھڑے ہو جاتے ہیں اور بیسیوں دنوں تک تمام علاقہ کا امن جاتا رہتا ہے۔ مگر اس وقت پچاس ہزار مسلمان عورت ہندوؤں اور سکھوں کے قبضہ میں ہے اور اور چند ہزار یا کم و بیش سکھ اور ہے سکھ اور ہندو عورت مسلمانوں کے قبضہ میں ہے مگر اس پر وہ شورش نہیں ، وہ اضطراب اور وہ دکھ نہیں جو صرف ایک عورت کے اغوا پر برپا ہوا کرتا تھا۔ اسی وجہ سے کہ ہر شخص سمجھتا ہے اگر میں نے اپنا دکھ بیان کیا تو لوگ مجھے