خطبات محمود (جلد 29) — Page 118
1948ء 118 خطبات محمود غرض مومن کی زندگی میں بچپن بھی ہوتا ہے اور بڑھاپے کی حالت میں بھی علم سیکھنے علم کی گرید کرنے اور علم کے حاصل کرنے سے وہ غافل نہیں ہوتا بلکہ اس سے وہ ایک لذت اور سرور حاصل کرتا ہے۔ اس کے مقابلہ میں جب انسان پر ایسا دور آتا ہے جب وہ سمجھتا ہے کہ میں نے جو کچھ سیکھنا تھا سیکھ لیا ہے۔ اگر میں کسی امر کے متعلق کوئی سوال کروں گا تو لوگ کہیں گے کیسا جاہل ہے۔ اسے ابھی تک فلاں بات کا پتہ ہی نہیں تو وہ علم حاصل کرنے سے محروم رہ جاتا ہے۔ حضرت خلیفہ اول سنایا کرتے تھے کہ جب آپ مہا راجہ کشمیر کے دربار میں طبیب مقرر ہوئے تو جاتے ہی بعض علاج نہایت کامیاب ہوئے جن سے آپ کی شہرت لوگوں میں خوب پھیل گئی۔ کچھ اس وجہ سے بھی شہرت تھی کہ آپ ہندوستان سے علم طب پڑھ کر گئے تھے۔ آپ کی عمر اس وقت زیادہ نہ تھی مگر لر پھر بھی ساری ریاست میں آپ کا شہرہ ہو گیا اور مہا راجہ بھی آپ کا بڑا ادب اور لحاظ کرتا۔ آپ فرماتے تھے ایک دن مجھے خیال آیا کہ یونانی طب تو پڑھ ہی لی ہے ویدک طب بھی پڑھ لوں ۔ اس سے علم کی زیادتی ہی ہوگی۔ میں نے پتہ لگایا تو معلوم ہوا کہ ایک پنڈت نے ویدک طب پڑھی ہوئی ہے مگر وہ پنڈت 15 روپے پر دربار میں معمولی ملازم تھا جیسے دفتری ہوتے ہیں ۔ آر ہیں ۔ آپ فرماتے تھے میں نے اُسے بلایا، اُس کی تنخواہ مقرر کی اور اُس سے ویدک طب پڑھنی شروع کر دی۔ چونکہ ریاست میں آپ کے حاسد بھی پیدا ہو گئے تھے اُنہوں نے جب سنا کہ حضرت مولوی صاحب نے ایک پنڈت سے جو معمولی دفتری کی حیثیت رکھتا ہے طب پڑھنی شروع کی ہوئی ہے تو اُنہوں نے سمجھا کہ یہ مہاراجہ کو آپ کے خلاف بھڑ کانے کا اچھا موقع ہے۔ ایک دن دربار لگا ہوا تھا کہ انہوں نے مہاراجہ کے کان بھر نے شروع کر دیئے کہ آپ نورالدین کی بڑی عزت کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ وہ بڑا طبیب ہے حالانکہ اُس کی حالت یہ ہے کہ اُس نے فلاں دفتری سے طب پڑھنی شروع کی ہے۔ اُسے تو طب آتی ہی نہیں۔ مہاراجہ کو اس پر تعجب ہوا۔ چنانچہ کسی وقت وہ پنڈت کا غذات لے کر دربار میں آیا تو مہا راجہ نے کہا حکیم صاحب ! میں نے سنا ہے لوگ آپ پر الزام لگاتے ہیں کہ یہ طب میں آپ کا استاد ہے۔ آپ کہتے تھے میں نے اس پر بڑے ادب سے اُس پنڈت کی طرف اشارہ کر کے کہا حضور واقع میں یہ میرے اُستاد ہیں۔ میں ان سے ویدک طب پڑھتا ہوں ۔ اس صاف گوئی اور حقیقت تسلیم کر لینے کا مہا راجہ پر اتنا اثر ہوا کہ بجائے اس کے کہ وہ بدظن ہوتا اُس کی نگاہ میں آپ کی قدرومنزلت اور بھی بڑھ گئی اور وہ اعتراض