خطبات محمود (جلد 29)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 99 of 477

خطبات محمود (جلد 29) — Page 99

$1948 99 خطبات محمود ساری ضرورتیں قرآن کریم سے پوری ہوسکتی ہیں۔اور یہ ایک ایسی قطعی اور یقینی حقیقت ہے جس میں شبہ کی کوئی بھی گنجائش نہیں۔آپ لوگ میرے مُرید ہیں اور مرید کی نگاہ میں اپنے پیر کی ہر بات درست ہوتی ہے۔بعض دفعہ اُس کی کوئی بات اُسے بُری بھی لگتی ہے تو وہ کہتا ہے سُبحَانَ اللهِ۔کیا اچھی بات کہی گئی ہے۔پس آپ لوگوں کا سوال نہیں کہ آپ میرے متعلق کیا کہتے ہیں۔میں کہتا ہوں غیروں کا میرے متعلق کیا تجربہ ہے۔غیر احمدیوں کی کوئی مجلس ہو خواہ پروفیسروں کی ہو، خواہ سائنس کے ماہرین کی ہو، خواہ علم انا قصاد کے ماہرین کی ہو میرے ساتھ مختلف دنیوی علوم سے تعلق رکھنے والے افراد نے جب بھی بات کی ہے اُنہوں نے محسوس کیا ہے کہ میرے ساتھ گفتگو کر کے انہوں نے اپنا وقت ضائع نہیں کیا بلکہ فائدہ ہی اٹھایا ہے۔کثرت کے ساتھ ہر طبقہ کے لوگ مجھ سے ملتے رہتے ہیں مگر ایک دفعہ بھی ایسا نہیں ہوا کہ انہوں نے میری علمی برتری اور فوقیت کو تسلیم نہ کیا ہو۔یہاں تک کہ بڑے بڑے ما ہر فوجیوں کو بھی میں نے دیکھا ہے مجھ سے گفتگو کر کے وہ یہی محسوس کرتے ہیں کہ انہوں نے مجھ سے فائدہ اٹھایا ہے۔یوں میری تعلیم کے متعلق جب وہ مجھ سے سوال کرتے ہیں مجھے تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ میں نے پرائمری بھی پاس نہیں کی۔لیکن جب علمی رنگ میں گفتگو شروع ہو تو انہیں میری علمی فوقیت کو تسلیم کرنا پڑتا ہے۔آخر کیا وجہ ہے کہ ایک ایم۔اے ایل ایل بی یا ایک پروفیسر یا ایک ڈاکٹر یا ایک فوج کا ماہر بعض دفعہ وہ کچھ بیان نہیں کر سکتا جو خدا تعالیٰ میری زبان سے بیان کروا دیتا ہے؟ اس کی وجہ صرف اور صرف یہ ہے کہ اُن کے علم کا منبع زید اور بکر کی کتابیں ہیں لیکن میرے سارے علم کا منبع خدا تعالیٰ کی کتاب ہے۔یہ لوگوں کی غلطی ہے کہ وہ قرآن کریم کو دوسرے لوگوں کی عینک لگا کر پڑھتے ہیں اور چونکہ وہ اُس مفتر یا اُس مفسر کی عینک لگا کر قرآن کریم پڑھتے ہیں اس لیے اُن کی نظر قرآنی معارف کی تہہ تک نہیں پہنچتی۔وہ وہیں تک دیکھتے ہیں جہاں تک اُس مفسر نے دیکھنا ہوتا ہے۔لیکن مجھے خدا تعالیٰ نے شروع سے یہ توفیق عطافرمائی ہے کہ میں نے خدا تعالیٰ کے کلام کو بھی انسان کی عینک سے نہیں دیکھا۔جس دن سے میں نے قرآن کریم پڑھا ہے میں نے یہ سمجھ کر نہیں پڑھا کہ مجھے یہ قرآن رازی کی معرفت ملا ہے، یا علامہ ابو حیان کی معرفت ملایا ابن جریر کی معرفت ملا ہے۔بلکہ میں نے یہ سمجھ کراسے پڑھا ہے کہ مجھے یہ قرآن براہ راست اللہ تعالیٰ کی طرف سے ملا ہے۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خدا تعالیٰ نے بے شک واسطہ بنایا ہے لیکن مجھے اُس نے خود مخاطب کیا ہے۔اور جب اُس نے مجھے