خطبات محمود (جلد 29)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 97 of 477

خطبات محمود (جلد 29) — Page 97

1948ء 97 خطبات محمود پاکستان کو جب کوئی خطرہ پیش آیا وہ سب سے بڑھ کر اس کے لیے قربانی کرے گی تو لازمی طور پر دوسرے مسلمان بھی ہماری جماعت کی نقل کرنے کی کوشش کریں گے۔ بلکہ ہو سکتا ہے کہ بعض لوگ آگے بڑھنے کی کوشش کریں اور اس طرح لوگوں کو بتائیں کہ ملک اور قوم کی خدمت کے معاملہ میں ہم لوگوں جماعت احمدیہ کے افراد سے پیچھے نہیں بلکہ آگے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ ملک کو فائدہ پہنچ جائے گا۔ چاہے وہ ایسا طریق ہمارے بغض کی وجہ سے اختیار کریں یا رشک کی وجہ سے کریں یا معاملہ کی خواہش کی وجہ سے کریں۔ بہر حال جتنے لوگ آگے آئیں گے اُتنا ہی یہ امر ملک کے لیے مفید اور بابرکت پ پیدا پیدا نہیں ہوگا ۔ پس جماعت کو اپنی ذمہ داریاں سمجھنی چاہیں ۔ مگر ذمہ داریوں کا احساس آپ ہی آپ ، ہو جاتا۔ اس کے لیے پہلے اپنی ذہنیت میں تغیر پیدا کرنا ضروری ہوتا ہے۔ جب تک وہ ذہنیت پیدا نہ ہو اُس وقت تک لوگوں کا وجود نفع رساں نہیں ہو سکتا۔ اس ذہنیت کو پیدا کرنے کے لیے سب سے پہلی چیز جس کو مد نظر رکھنا ہر شخص کے لیے ضروری ہے وقت کی قیمت کا احساس ہے۔ ہمارے ملک میں لوگوں کو وقت ضائع کرنے کی عام عادت ہے۔ بازار میں جاتے ہوئے کوئی شخص مل جائے تو السَّلَامُ عَلَيْكُمْ کہہ کر اُس سے گفتگو شروع کر دیں گے اور پھر دو دو گھنٹے تک کرتے چلے جائیں گے۔ میں ایک دفعہ منالی گیا۔ ایک سکھ رئیس جو اس قسم کی عادت رکھتے تھے ایک انگریز کے ساتھ پھر رہے تھے کہ مجھے دیکھ کر جھٹ میرے پاس آگئے اور کہنے لگے مرزا صاحب آپ کہاں؟ میں نے کہا تبدیلی آب و ہوا کے لیے یہاں آیا ہوں ۔ اُن کے دادا اور ہمارے دادا مہا راجہ رنجیت سنگھ صاحب کے زمانہ میں اکٹھے جرنیل رہے تھے۔ اس لیے وہ میرے پرانے واقف تھے۔ میں اُس وقت ابھی منالی میں اُترا ہی تھا اور مجھے مستورات کے آرام اور اُن کی رہائش وغیرہ کا انتظام کرنا تھا۔ قافلہ بھی ساتھ تھا اور ضرورت تھی کہ فوری طور پر ہمیں فارغ کیا جاتا۔ وہ خود بھی کہنے لگے اچھا میں کسی دوسرے وقت حاضر ہوں گا ۔ مگر اس کے معاً بعد اُنہوں نے ایک سوال کر دیا جس کا مجھے جواب دینا پڑا۔ اس کے بعد انہوں نے دوسرا سوال کر دیا۔ دوسرا سوال ختم ہوا تو تیسر اسوال کر دیا۔ یہاں تک کہ ڈیڑھ دو گھنٹے صرف ہو گئے۔ اُن کی گفتگو کو لمبا ہوتے دیکھ کر انگریز بھی چلا گیا اور قافلہ بھی میری آمد سے مایوس ہو گیا۔ مگر انہوں نے مجھے شام کے قریب چھوڑا۔ اور چھوڑا بھی یہ کہہ کر کہ اچھا پھر بات کریں گے۔ اسی طرح ایک دفعہ میں کلو کے ڈاک بنگلہ میں ٹھہرا ہوا تھا۔ شام کے وقت مستورات کے