خطبات محمود (جلد 29)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 84 of 477

خطبات محمود (جلد 29) — Page 84

$1948 84 خطبات محمود بات بات میں پائی جاتی ہے۔مگر جب گرفت کی جائے تو قسم کھا کر لوگ کہہ دیتے ہیں کہ ہم بے ایمانی نہیں کر رہے۔اگر بے ایمانی نہیں تو اور کیا ہے کہ انہوں نے محنت نہ کی اور جماعت کو نقصان پہنچا دیا۔وہ سمجھتے ہیں بے ایمانی یہی ہوتی ہے کہ دوسرے کا روپیہ اڑا کر جیب میں ڈال لیا جائے۔گویا وہ بے ایمانی بھی کرتے ہیں اور پھر اتنے پاگل ہوتے ہیں کہ بے ایمانی کے معنی بھی نہیں جانتے۔وہ شخص جو محنت کر کے کما تا اور پھر دوسرے کا حق اپنی جیب میں ڈال لیتا ہے اور وہ شخص جو محنت سے کام نہیں لیتا اور قوم کے روپیہ کو ضائع کر دیتا ہے دونوں بے ایمان ہیں۔یہ بے ایمان ہے اس لیے کہ اس نے محنت تو کی مگر رو پیدا اپنی جیب میں ڈال لیا اور وہ بے ایمان ہے اس لیے کہ اُس نے محنت نہ کی اور اس طرح وہ نتیجہ پیدا نہ ہوا جو ہونا چاہیے تھا۔ایک ایسا شخص جو نماز نہیں پڑھتا وہ بھی بے نماز ہے اور ایک ایسا شخص جو صرف دکھاوے کے لیے نماز پڑھتا ہے وہ بھی بے نماز ہے۔یہ کہنا کہ دوسرے نے خواہ دکھاوے کے لیے نماز پڑھی ہے نماز تو پڑھ لی ہے بے وقوفی کی بات ہے۔نماز وہی ہے جو خدا تعالیٰ کے لیے ادا کی جائے۔غرض جب تک تقوی کے ساتھ انسان اپنے تمام اعمال کا جائزہ نہ لیتا ر ہے اُس وقت تک وہ کبھی ایمان کی موت نہیں مرسکتا۔اسی لیے صوفیاء کہتے ہیں کہ حَاسِبُوا قَبلَ أَنْ تُحَاسَبُوا - 5 مرنے سے پہلے اپنے اعمال کا محاسبہ کرتے رہا کرو۔ایسا نہ ہو کہ تمہارا خانہ خالی ہو اور تم صرف ایمان کا لفظ لے کر بیٹھے رہو اور یہ خیال کرو کہ جب ہم خدا تعالیٰ کے سامنے پیش ہوں گے تو ایمان کا لفظ اُس کے سامنے رکھ دیں گے اور کہہ دیں گے کہ لیجیے یہ ہمارا ایمان ہے۔ایسا ایمان تمہارے کسی کام نہیں آسکتا"۔الفضل 25 مارچ 1948 ء ) 1 : سیٹھے: بے مزہ۔پھیکے 2 : دھجیاں : کپڑے یا کاغذ کی کترن۔چیتھڑے۔3 : بزاز : کپڑا بیچنے والا۔پارچہ فروش۔4 آل عمران: 134 5: كنز العمال جلد 16 حدیث نمبر 44203 الباب الثالث في الحكم و جوامع الكلم كتاب المواعظ والرقائق والخطب والحكم خطب ابى بكر الصديق ومواعظ میں حَاسِبُوا أَنْفُسَكُمْ قَبلَ أَنْ تُحَاسَبُوا“ کے الفاظ ہیں۔