خطبات محمود (جلد 29) — Page 68
$1948 68 خطبات محمود اسلام ہمیں اس بات سے روکتا ہے کہ ہم کسی پر ظلم کریں۔وہ ہدایت دیتا ہے کہ کسی پر ظلم نہ کرو۔وہ ظالمانہ بدلہ سے بھی منع کرتا ہے۔مگر وہ حقیقی بدلہ لینے سے نہیں روکتا کیونکہ حقیقی بدلہ نہ لینا بے غیرتی اور بے حیائی ہوتی ہے۔مگر مسلمانوں کی یہ حالت ہے کہ جہاں سے اُن کو کسی نے نکالا وہاں سے وہ السَّلَامُ عَلَيْكُمْ کہہ کر اور اپنے کپڑے جھاڑ کر چلے آئے۔اس سے زیادہ بے حیائی اور بے شرمی اور کیا ہوسکتی ہے کہ بجائے اس کے کہ مسلمانوں کے اندر ایک آگ لگ جاتی اور وہ تہیہ کر لیتے کہ ہم نے پھر اپنے وطنوں کو واپس جانا ہے، پھر اپنے ملک میں عزت اور آبرو کا مقام حاصل کرنا ہے اور اس غرض کے لیے وہ اپنے اندر طاقت اور قوت پیدا کرتے اور اپنے آپ کو منظم کرنے کی کوشش کرتے اور اس طرح پنجاب کا ابتلاء اُن کی بیداری کا موجب ہو جا تا بلکہ سب دنیا کے مسلمانوں کی بیداری کا موجب ہو جاتا۔ہوا یہ کہ دوسرے ممالک میں تو کیا تغیر ہونا تھا خود پنجاب کے مسلمانوں میں بھی بیداری پیدا نہیں ہوئی۔بلکہ جو کچھ ہم نے پنجاب میں دیکھا ہے وہ تو یہ ہے کہ اپنی جائیداد میں کھونے کے بعد مسلمان بھک منگے اور فقیر بن گئے ہیں۔کثرت کے ساتھ حکام نے مجھے بتایا ہے کہ مسلمانوں کی یہ حالت ہے کہ اُن کو ایک مقام پر بٹھایا جاتا ہے، اُن کے لیے غلہ کا انتظام کیا جاتا ہے ، ہندو جو برتن وغیرہ چھوڑ گئے ہیں اُن میں سے برتن اُن کو دیئے جاتے ہیں، کپڑے اُن کو دیئے جاتے ہیں اور اس طرح اُن کو ہر طرح آرام پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہے مگر تیسرے چوتھے دن رات کے وقت وہ اچانک سب سامان لے کر بھاگ جاتے ہیں۔کہتے ہیں کہ یہ زمین ہمیں پسند نہیں۔پھر پندرہ بیس میل کے فاصلے پر کسی دوسرے مقام پر ڈیرہ کی لگا لیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم مہاجر ہیں اور مشرقی پنجاب سے لئے ہوئے آئے ہیں۔پھر انہیں زمین دے دی جاتی ہے۔جب زمین ملتی ہے تو کہتے ہیں کہ ہم کھائیں کہاں سے؟ پھر ان کو غلہ دیا جاتا ہے۔غلہ مل جائے تو کہتے ہیں اب ہم پکائیں کس طرح؟ برتن تو ہمارے پاس ہے نہیں۔اس پر انہیں برتن دیئے جاتے ہیں۔پھر کہتے ہیں ہمارے پاس کپڑا کوئی نہیں۔چنانچہ انہیں کپڑے بھی دیئے جاتے ہیں۔مگر پھر تین چار دن کے بعد وہ تمام چیزیں سمیٹ کر وہاں سے بھی بھاگ جاتے اور کسی اور مقام پر برتن اور کپڑے لینے کے لیے پہنچ جاتے ہیں۔گویا بجائے اس کے کہ اس مصیبت کے بعد اُن میں قوت عملیہ پیدا ہوتی ، بجائے اس کے کہ اُن میں کوئی نیک تغیر پیدا ہوتا وہ فقیر اور بھک منگے بن گئے