خطبات محمود (جلد 29)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 51 of 477

خطبات محمود (جلد 29) — Page 51

خطبات محمود 51 $1948 رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب مکہ فتح کیا تو خانہ کعبہ کے پجاری بھی بظاہر مسلمان ہو گئے۔اُس وقت کا ایک پجاری کہتا ہے کہ میرے خاندان کے بہت سے آدمی چونکہ مسلمانوں کے ہاتھوں مارے گئے تھے اس لیے گو میں بظاہر مسلمان ہو گیا مگر میں نے اپنے دل میں قسم کھائی کہ جب بھی مجھے موقع ملا میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کر کے اپنے خاندان کے افراد کا بدلہ لوں گا۔اس کے بعد ایسا اتفاق ہوا کہ اُس کی اس خواہش کے پورا ہونے کا ذریعہ بھی نکل آیا۔طائف والوں سے جنگ ہوئی اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اہلِ طائف کا مقابلہ کرنے کے لیے صحابہ کو لے کر چل پڑے۔اُس وقت یہ شخص بھی جو آپ کے قتل کا ارادہ رکھتا تھا لشکر میں شامل ہو گیا۔اُس کا اپنا بیان ہے کہ میں نے سمجھا میرے لیے یہ بہت ہی عمدہ موقع پیدا ہو گیا ہے۔اگر لڑائی میں کوئی ایسا موقع آیا جب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ سلم اکیلے ہوئے تو میں انہیں مار ڈالوں گا۔اس لیے میں آپ کے قریب قریب رہتا تھا۔آخر ایسے سامان بھی پیدا ہو گئے کہ اُسے اپنے دل کی بھڑاس نکالنے کا موقع مل گیا۔اسلامی لشکر جب آگے بڑھا تو دشمن نے کمین گاہوں سے تیر برسانے شروع کر دیئے۔مکہ کے حدیث العہد اور نئے نئے مسلمان جن میں بعض کا فربھی شامل تھے اور جو بڑے تکبر سے آگے آگے چل رہے تھے۔جب اُن پر تیروں کی بوچھاڑ پڑی تو وہ بے تحاشا پیچھے کی طرف بھاگے۔اُن کے بھاگنے اور سواریوں کے بدکنے کی وجہ سے باقی لشکر میں بھی بھا گڑھے بچ گئی اور سب لشکر میدان سے بھاگ نکلا۔یہاں تک کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس صرف بارہ آدمی رہ گئے۔اُس وقت حضرت ابو بکر نے چاہا کہ رسول کریم صلی علیہ وسلم کو واپس کو ٹا ئیں۔چنانچہ اُنہوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری کی باگ پکڑ لی اور کہا یا رسول اللہ! اب ہمیں کوٹنا چاہیے تاکہ ہم لشکر کو جمع کر کے پھر حملہ کریں۔اُس وقت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بڑے جوش سے فرمایا چھوڑ دو میری سواری کی باگ کو۔اور حضرت عباس کو بلا کر کہا عباس! آواز دو کہ اے انصار ! خدا کا رسول تم کو بلاتا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُس وقت مہاجرین کا نام نہیں لیا۔اس کی وجہ یہ ہے کہ مہاجرین کی سفارشوں پر ہی کفار مکہ کو ساتھ لیا گیا تھا چونکہ وہ مہاجرین کے رشتہ دار تھے۔اُنہوں نے سفارش کی کہ اُن کو بھی ساتھ لیا جائے اور انہیں خدمت کا موقع دیا جائے۔چونکہ اُن کی سفارش کی وجہ سے اسلامی لشکر کو نقصان پہنچا تھا اس لیے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی تنگی کا اس نہایت ہی لطیف پیرایہ میں اظہار کیا کہ