خطبات محمود (جلد 29)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 43 of 477

خطبات محمود (جلد 29) — Page 43

$1948 43 خطبات محمود سہی، اُن کا ایمان ناقص سہی لیکن یہ چیز جو انسان کو انسان بناتی ہے بشرطیکہ اس سے صحیح طور پر کام لیا لی جائے اُن کے اندر موجود تھی کہ جس سے محبت اور لگا وہو اس کے نام پر بدنامی کا دھبہ نہیں لگنا چاہیے۔آج سے قریباً چالیس سال پہلے کا یہ واقعہ ہے مگر میری نظروں کے سامنے آج بھی یہ واقعہ اُسی طرح ہے جس طرح اُس وقت تھا۔شاید اس کے نقش کچھ دھندلے ہو گئے ہوں تو ہو گئے ہوں مگر بہر حال اس کے نقش زندہ ہیں۔اور جب بھی اس واقعہ کا مجھے خیال آتا ہے یہ نظارہ میری آنکھوں کے سامنے پھرنے لگتا ہے۔ہم اُن کے اس فعل کو بے شک بُرا کہیں کہ خدا اور رسول سے اُنہوں نے شیخ ہمدان اور پی دستگیر کو بڑا بنا لیا لیکن جہاں ہمارا فرض ہے کہ ہم بُری بات کو بُرا کہیں وہاں ہمارا یہ بھی فرض ہے کہ ہم اچھی بات کو اچھا کہیں۔اُن کے اندر بے شک بُرائی تھی لیکن اُن میں یہ خوبی بھی تھی کہ اُن کے دلوں میں یہ احساس پایا جاتا تھا کہ ہمیں اپنے محبوب اور پیارے کے نام پر دھبہ نہیں لگنے دینا چاہیے۔بے شک اُنہوں نے غلطی کی، بے شک ہم یہی کہیں گے کہ وہ غلطی میں مبتلا تھے لیکن اُن کو ایک غلطی خورده انسان قرار دیتے ہوئے بھی اُن کی نادانی میں ایک ایسا سبق پوشیدہ تھا جو بہت سے لوگوں کی آنکھیں کھولنے والا ہے۔اور وہ سبق یہ ہے کہ جب وہ ایک غلط عقیدہ پر قائم ہوتے ہوئے بھی اپنے محبوب کے نام پر بقہ لگنا گوارا نہیں کر سکتے تو وہ شخص جو ایمان کا دعوی کرتا ہے اُسے تو بہر حال ایمان میں اُن سے بہت زیادہ ثابت قدم ہونا چاہیے۔جس طرح کشتی والوں کے نزدیک ایک نازک وقت آگیا تھا اور اُنہوں نے اپنا سارا زور کشتی کے نکالنے میں لگا دیا اُس سے بہت زیادہ نازک وقت اس وقت اسلام اور احمدیت کے لیے آیا ہوا ہے۔شاید آپ لوگوں میں سے ہر شخص اگر وہاں موجود ہوتا اور اُن کے اس طریق عمل کو دیکھتا تو استغفار پڑھنے لگ جاتا اور کہتا یہ کیسے مشرک اور ناقص الایمان لوگ ہیں، مسلمان کہلاتے ہیں لیکن مشرکانہ عقائد میں مبتلا ہیں، اسلام کی طرف اپنے آپ کو منسوب کرتے ہیں من ایسے افعال کا ارتکاب کرتے ہیں جن کی اسلام سے دور کی بھی نسبت نہیں۔لیکن اگر وہ سوچتا تو اُسے معلوم ہوتا کہ وہ اپنے شرک اور بے ایمانی میں بھی ایمانداروں کو سبق دے رہے تھے۔وہ مشرک سہی، وہ بے ایمان سہی لیکن وہ وفاداری کا جذبہ اپنے اندر رکھتے تھے۔اور اگر ایک مشرک اور کا فرو فادار ہوسکتا ہے تو مومن کو اُس سے بڑھ کر کیوں وفادار نہیں ہونا چاہیے۔اگر ایک مشرک اپنے پیر کا نام آنے پر یہ برداشت نہیں کر سکتا کہ اُسے ناکامی ہو تو وہ مومن کیسا مومن ہے جو مشکلات اور آفات کے وقت