خطبات محمود (جلد 29) — Page 424
خطبات محمود 424 $1948 اسی طرح احمدیت کے متعلق معنوی پیشگوئیاں پوری بھی ہو رہی ہوں تو وہ نظر نہیں آتیں۔قادیان کی باتیں نظر آجاتی ہیں اس کے متعلق وہ فوراً اعتراض کر دے گا۔دشمن تو ہر وقت اسی گرید میں رہتا ہے کہ مادی چیزوں میں سے اسے کوئی اعتراض کی چیز مل جائے تو وہ اس پر فوراً حملہ کر دے۔پس ہمیں اپنے ایمان کے علاوہ دشمن کے ایمان کے لحاظ سے بھی اسے مدنظر رکھنا چاہیے۔ہم نے جو قادیان میں مقابلہ کیا اور ہم نے قادیان کو اپنے قبضہ میں رکھنے کی جو کوشش کی اور پھر خدا تعالیٰ کے فضل سے ہم نے اپنے مرکز کو اپنے ہاتھ میں رکھا ہے اسے ہمیں کسی وقت بھی نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔یہ ظاہر اور صاف بات ہے کہ جو لوگ وہاں رہتے ہیں وہ خواہ کتنی قربانی بھی کریں اُن کی کمائی کی وہاں کوئی صورت نہیں، اُن کی آمدن کی کوئی صورت نہیں۔اُن کی حالت ایسی ہی ہے جیسے وہ اعتکاف میں بیٹھے ہوئے ہیں۔لازمی طور پر ہمارا یہ فرض ہے کہ ہم انہیں کھانا دیں، ہم انہیں کپڑے ہیں، وہ اگر بیمار ہو جائیں تو اُن کا علاج کریں اور ضروریات انسانی کی جو دوسری چیزیں ہوں خواہ وہ کتنی ہی قلیل کیوں نہ ہوں انہیں مہیا کریں۔ہم دیکھتے ہیں کہ کالجوں میں لڑکے پڑھتے ہیں تو ہم اُن پر سوا سو روپیہ ماہوار سے زیادہ خرچ کر دیتے ہیں۔بورڈنگوں میں آجکل بغیر ناشتہ کے پچاس ساٹھ روپے لے لیتے ہیں کم از کم چالیس پینتالیس روپیہ تو لے لیتے ہیں۔تم اس سے آدھا خرچ ہی لے لو، اس سے تیسر ا حصہ ہی لے لو قادیان میں اس وقت سوا تین سو آدمی ہیں۔پھر ان کے پاس مہمان بھی آتے رہتے ہیں۔چار سو افراد کے لیے ہم ادنیٰ سے ادنی کھانا بھی لے لیں حالانکہ ان کے لیے تو اچھا کھانا چاہیے کیونکہ انہیں آزادی نہیں ہے۔وہ ایک قسم کے قیدی ہیں۔اِدھر اُدھر آزادی سے نہیں پھر سکتے۔اُن کی صحتوں کو قائم رکھنے کے لیے انہیں اچھا کھانا چاہیے لیکن اگر ادنیٰ سے ادنی کھانا بھی ان کے لیے رکھیں تب بھی اُن کے لیے چھ ہزار روپیہ تو کھانے کے لیے چاہیے۔پھر اگر دوسرے اخراجات بھی شامل کیے جائیں تو انہیں دس بارہ ہزار روپیہ ماہوار چاہیے۔تب صحیح طور پر خرچ چل سکتا ہے۔وہ لوگ تو بہت بڑی تنگی سے گزارہ کر رہے ہیں۔پھر ہندوستان کی تنظیم کا سوال ہے۔اس وقت ہندوستان کی جماعتیں بکھری ہوئی ہیں۔اس پر بھی خرچ ہو گا۔وہاں کی تبلیغ پر بھی خرچ ہو گا۔پھر اور کئی کام ہیں جن پر بڑی بڑی رقوم خرچ ہوتی ہیں۔مختلف بیرونی ملکوں میں پروپیگنڈا کرنے اور دوسری قوموں کو اس طرف توجہ دلانے میں جو خرچ