خطبات محمود (جلد 29) — Page 376
$1948 376 خطبات محمود مجھے ایک واقعہ یاد آ گیا۔خواجہ نظام الدین صاحب اولیاء کا ایک مرید تھا۔آپ اُس سے بہت پیار کیا ہی کرتے تھے۔وہ شخص پہلے بہت عیاش تھا ، شراب کی بھی اُسے عادت تھی۔اس نے آپ کی بیعت کرلی اور اس میں اخلاص بھی پیدا ہو گیا۔لوگوں نے آپ سے شکایت کی کہ آپ کے فلاں مرید کو شراب کی عادت ہے۔آپ نے فرمایا میں تو نہیں مانتا کہ وہ شراب پیتا ہے۔اس پر انہوں نے کہا آپ خود کسی دن دیکھ لیں۔ایک دن وہ شراب پی رہا تھا لوگ خواجہ صاحب کے پاس آئے اور کہا آپ آئے اور دیکھ لیجیے۔مجلس لگی ہوئی تھی ، دور چل رہا تھا۔خواجہ صاحب نے دیکھا اور جوش میں آکر اُس کے پاس چلے گئے اور اس سے مخاطب ہو کر فرمانے لگے۔ہیں ! یہ کیا؟ تم شراب پیتے ہو؟ اُس مرید نے جب یہ دیکھا کہ مجھے میرے پیر نے شراب پیتے ہوئے دیکھ لیا ہے تو اُس نے کہا زہد تایاں فسق ما یاں کم نکرد فق ما یاں بہتر از زہد شماست یعنی کیا ہونا تھا۔میں آپ کے پاس آیا تھا تا میں ان بُری عادتوں سے آپ کی دعاؤں کے ذریعہ نجات پا جاؤں مگر میں نے ان بری عادتوں سے نجات نہیں پائی۔معلوم ہوتا ہے کہ آپ کا زہد میری بدکاری سے چھوٹا ہے اس لیے وہ میری بدکاری کو مٹا نہیں سکا۔خواجہ صاحب نے یہ سنا اور فرمایا بہت اچھا۔دیدہ باید۔چنانچہ آپ نے دعا کی اور اسے تو بہ نصیب ہوئی۔۔میں نے سمجھا کہ جب شیطان کی ذریت نماز نہیں پڑھتی تو تم میں ایسے لوگ بھی ہوں گے جو غصہ میں آکر نمازیں پڑھنی شروع کر دیں گے۔بہر حال ہر ایک چیز اپنی جگہ پر آ جائے گی جو چیز بے دینی کے مقام پر کھڑی ہے وہ بھی اپنی جگہ پر آجائے گی اور جو چیز دین کے مقام پر کھڑی ہے وہ بھی اپنی جگہ پر آجائے گی۔یہ یقینی بات ہے کہ خدا تعالیٰ نے یہ بیج بویا ہے۔اس نے بڑھنا ہے، پھلنا ہے اور پھولنا ہے۔اس میں زید یا بکر کا خیال رخنہ اندازی نہیں کر سکتا۔بدقسمتی سے بعض لوگ آئے اور ایمان لے آئے مگر وہ اپنے اقرار پر قائم نہ رہے۔طریقہ یہ ہے کہ اُن کی نگرانی کی جائے، انہیں سمجھایا جائے۔اگر وہ اپنی اصلاح نہ کریں تو انہیں جماعت سے نکال دیا جائے۔ہماری جماعت سے یہ کوتاہی ہوئی ہے کہ جب کوئی کمزور آدمی جماعت میں داخل ہو جاتا ہے تو لوگ اُس کے نکال دینے سے گھبراتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ اس طرح ہماری تعداد کم ہو جائے گی۔یہ بات غلط ہے۔ہمیں کمی کی پروا نہیں کرنی چاہیے خواہ جماعت نصف حصہ رہ جائے، چوتھا حصہ رہ جائے یا دسواں حصہ رہ جائے۔