خطبات محمود (جلد 29)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 355 of 477

خطبات محمود (جلد 29) — Page 355

خطبات محمود 355 $1948 پھر مکھیوں کو دیکھو! وہ شہر بناتی ہیں اور بناتی چلی جاتی ہیں لیکن انسان انہیں کھانے نہیں دیتا۔وہ ان کے نیچے دھواں رکھ کر گرم پانی پھینک کر یا کوئی اور ذریعہ اختیار کر کے اُن کا چھ ماہ کا بنایا ہوا شہد اُڑا کر لے جاتا ہے۔وہ مکھیاں دو منٹ کا بھی انتظار نہیں کرتیں۔وہ اُس جگہ کے چھوڑ دینے کے بعد دوسری جگہ تلاش کر لیتی ہیں اور دوبارہ شہر بنانا شروع کر دیتی ہیں۔ایک گھنٹے کے بعد اگر انہیں آکر دیکھو تو وہ قریب ہی کسی جگہ شہد بنانے میں مشغول ہوں گی۔بعض دفعہ اُن سے سالہا سال تک ایسا کیا جاتا ہے مثلاً پالتو مکھیاں ہوتی ہیں۔وہ جب بھی شہد بنالیتی ہیں شہد اُڑالیا جاتا ہے اور انہیں اپنا بنایا ہوا شہد کھانے کا موقع نہیں ملتا۔وہ شہد بناتی ہیں اور لوگ شہد لے جاتے ہیں۔اگر ایک مکھی شہد بناتی ہے اس لیے کہ اُسے لوگ لے جائیں اور اُس سے بیماریاں دور ہوں جیسے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے فِيهِ شِفَاءٍ لِلنَّاسِ 3 اس میں لوگوں کے لیے شفا ہے۔یا پھر اگر ایک مکھی شہد بناتی ہے اور بناتی چلی جاتی ہے اور لوگ اُس کے پاس شہد نہیں رہنے دیتے وہ ہمیشہ اُڑالے جاتے ہیں اور وہ کبھی پھر بھی شہد بنانانہیں چھوڑتی۔تو کیا انسان ہی ایسا ضعیف ہے کہ وہ اس طرح مایوس ہو جائے؟ جوشخص اپنی کوشش میں ناکام ہو جانے کے بعد ہمت چھوڑ بیٹھتا ہے وہ آدمی نہیں۔وہ چیونٹیوں اور مکھیوں سے بھی بدتر ہے۔دنیا کی فتح کوئی معمولی چیز نہیں ہے۔حقیقت یہی ہے کہ ابھی تک لوگوں کے اخلاق درست نہیں ہوئے اور وہ اس کی اہمیت کو بھی نہیں سمجھتے۔اگر وہ اس چیز کی اہمیت کو سمجھتے تو خواہ ان سے ہزار دفعہ مال بھی چھین لیا جاتا تو وہ اس کی پرواہ نہ کرتے۔کم از کم لکھی جتنی تو ان میں ہمت ہوتی۔مگر کیا ایسا ہوا ہے؟ اگر میں کہوں کہ کل سورج نہیں چڑھے گا تو خواہ آپ مجھے خلیفہ مانتے ہیں، آپ نے میری بیعت کی ہوئی ہے مگر آپ کہیں گے کہ شاید ہم نے آپ کی بات نہیں سمجھی۔یا کئی ایسے ہوں گے جو کہہ دیں گے کہ یہ دیوانے ہو گئے ہیں۔ایسا کیوں ہو گا؟ اس لیے کہ سورج روز چڑھتا ہے۔یا گرمی چھٹے مہینے آتی ہے، سردی چھٹے مہینے آتی ہے۔وہ ضرور آئے گی۔پھر پھل اور غلہ ہے وہ اپنے مقررہ وقت پر ضرور ہو گا خواہ کم ہو یا زیادہ وہ ہو گا ضرور۔اسی طرح نبی بھی تو ہمیشہ سے ہوتے چلے آئے ہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ ایک لاکھ چوبیس ہزار نبی آئے ہیں 4 مگر کیا کوئی ایسی روایت بھی آئی ہے کہ کوئی نبی ہارا ہو؟ ایک دفعہ بھی ایسا نہیں ہوا۔پھر تم نے یہ کیسے خیال کر لیا کہ تمہارے لیے ہمیشہ تباہی ہی چلتی جائے گی۔ایک دفعہ کیا خواہ دس دفعہ ایسا ہو بالآخر جیت ہماری ہی