خطبات محمود (جلد 29)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 334 of 477

خطبات محمود (جلد 29) — Page 334

$1948 334 خطبات محمود میں دوسرے دالان میں تھا کہ میرے کان میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی یہ آواز پڑی اور چونکہ میں خود مسجد میں نہیں گیا تھا اس لیے میرا دل بیٹھنے لگا کہ اُس شخص نے جھوٹ نہ بولا ہو۔مگر اللہ تعالیٰ نے میری پردہ پوشی فرمائی اور مولوی عبدالکریم صاحب نے جواب دیا کہ حضور! آج تو بہت ہی آدمی تھے۔مسجد کناروں تک بھری ہوئی تھی۔اب یہ سیدھی بات ہے کہ جو کچھ میں نے کیا محض قیاس کی وجہ سے کیا۔اسی طرح کئی لوگ قیاس کر لیتے ہیں اور اس سے زیادہ قیاس کر لیتے ہیں جتنی لوگوں کے لیے واقع میں گنجائش نہیں ہوتی۔نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ بہت سی جگہ خالی رہتی ہے۔مجھے کہا گیا ہے کہ اگر باہر جگہ لی گئی تو یہ مسجد ویران ہو جائے گی۔لیکن میں سمجھتا ہوں کہ اگر دوسری مسجد کے لیے باہر زمین نہ لی گئی تو اس مسجد کی حقیقی آبادی کی طرف جماعت کو کبھی توجہ ہی پیدا نہیں ہو گی۔اب اس مسجد کو جس کے ارد گر د صرف چند احمدی دوست رہتے ہیں اس لیے آباد سمجھا جاتا ہے ہے کہ جمعہ کے دن سارے شہر کے احمدی دوست یہاں آکر ایک دفعہ نماز پڑھ لیتے ہیں اور کسی کے دل میں یہ خیال نہیں آتا۔مگر یہ محلہ جس میں ابتدائی ایام سے احمدیت چلی آ رہی ہے اس محلہ میں اب احمدیت ترقی کرنے کی بجائے گر گئی ہے اور انہیں کبھی خیال بھی نہیں آتا کہ انہوں نے اس محلہ کو بالکل چھوڑ دیا ہے۔ہم بچے تھے اور لاہور میں آیا کرتے تھے تو اسی محلہ میں میاں چراغ الدین صاحب مرحوم کے ہاں ٹھہرا کرتے تھے۔1903ء میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام یہاں تشریف لا۔تو آپ بھی اسی محلہ میں ٹھہرے۔غرض اُس وقت احمدیوں کے ٹھہرنے کی یہی جگہ تھی مسجد کوئی نہیں تھی۔ہم نماز بھی میاں چراغ الدین صاحب مرحوم کے گھر میں پڑھا کرتے تھے۔ایک بڑا دالان تھا جس میں نماز ہوتی تھی لیکن اس مسجد کے بن جانے کی وجہ سے لوگوں کے ذہنوں سے یہ بات نکل گئی ہے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اس محلہ میں افراد کے لحاظ سے احمدیوں کی تعداد پہلے سے زیادہ ہے اور وہ پرانے لوگ جو فوت ہو چکے ہیں اُن کی نسلیں بھی کثیر ہیں لیکن شہر کی ترقی کے مقابلہ میں افراد کی ترقی کوئی نسبت نہیں رکھتی۔پہلے یہ محلہ بالکل غیر آباد تھا، درمیان میں بڑے بڑے فاصلے تھے اور اس کے پچھواڑے میں بھی بہت بڑا خلا تھا۔جب ہم ان عمارتوں کے پیچھے چلے جاتے تھے تو یوں معلوم ہوتا تھا کہ ہم جنگل میں نکل گئے ہیں مگر اب تو ہر جگہ ہی آبادی ہی آبادی ہے۔اس لحاظ سے میں سمجھتا ہوں کہ اُس وقت سے لے کر اب تک اس محلہ کی آبادی تمہیں چالیس گنے بڑھ گئی ہے۔یعنی اس محلہ میں ہماری