خطبات محمود (جلد 29) — Page 328
$1948 328 خطبات محمود بے تحاشا اپنے چھرے، تلوار میں اور نیزے لے کر وہاں پہنچے۔کچھ آپ کی مدد کو چلے گئے اور باقی پنی قربانیاں کرنے لگے۔غرض بڑے آدمی یا سردار قوم کو کام کرتے دیکھ کر اس کے اتباع خود بخود وہ کام کرنا شروع کر دیتے ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اے محمد رسول اللہ ! تیری قوم کو تجھ سے محبت ہے اور وہ آئندہ بھی تجھ سے محبت کا دعوی کرے گی۔اگر اسلام کے سلسلہ کو جاری کرنے کی غرض دنیا میں صداقت کو قائم کرنا ہے اور صداقت تبلیغ کے بغیر قائم نہیں ہوسکتی اور تبلیغ اس وقت ہی ہو سکتی ہے جب لوگ گلی طور پر اس طرف لگ جائیں۔پس اے میرے رسول! ہم تجھے ایک ترکیب بتاتے ہیں۔تو اٹھ اور تبلیغ میں لگ جا۔تیرے اتباع جب تجھے تبلیغ کرتا دیکھیں گے تو وہ بھی تبلیغ میں لگ جائیں گے۔اُذ سے یہ مراد نہیں کہ یہ حکم صرف محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ہی ہے بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب آپ کے اتباع جنہیں آپ سے محبت ہے آپ کو تبلیغ کرتے دیکھیں گے تو وہ بھی اس کام میں لگ جائیں گے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے ایک دفعہ کسی نے کہا آپ کی جماعت کے لوگ ابھی تک مغربی طریقے پر چل رہے ہیں، مغربی طرز پر بال کٹاتے ہیں، ڈاڑھیاں منڈاتے ہیں۔آپ نے فرمایا ہم تو اصول کو لیتے ہیں جزئیات کی طرف توجہ دینے کے لیے ہمارے پاس وقت نہیں ہے۔فرمایا جب ایمان ان کے دلوں میں راسخ ہو جائے گا اور یہ اُن انوار اور برکات پر جو نازل ہوتی ہیں غور کریں گے تو لازما محسوس کریں گے کہ ہمیں اس سے محبت کرنی چاہیے اور جب انہیں محبت ہو جائے گی تو پھر وہ آپ ہی آپ یہ کام شروع کر دیں گے 3۔اگر ہم ایک ایک مسئلہ کے پیچھے لگ جائیں تو یہ بہت مشکل ہے آخر مسلمانوں کی کونسی کل سیدھی ہے۔اگر ہم ہاتھ باندھنے اور رکوع ، سجود اور آمین وغیرہ کے جھگڑوں میں پڑ جا ئیں تو پھر بنیادی کاموں کے لیے کہاں سے وقت لائیں۔ہم نے تو بنیادی اصولوں کو قائم کرنا ہے۔جب وہ قائم ہو جائیں گے تو یہ چیز میں آپ ہی آپ ہو جائیں گی۔ہے۔مجھے یاد ہے ایک دفعہ ایک دوست قادیان آئے۔انہوں نے بیعت بھی کر لی تھی۔بعد میں نہیں ٹھوکر لگی اور پھر انہوں نے اپنی اصلاح بھی کر لی۔میں نے سنا ہے کہ وہ ابھی تک زندہ ہیں۔اُن کا طریق لباس کچھ ہندوانہ تھا کیونکہ وہ ایک ہندو ریاست میں حج تھے اور کچھ انگریزیت غالب تھی۔دو سال کے بعد میں نے انہیں دیکھا تو اُن کا وہی لباس تھا جو میں پہنتا تھا۔میں نے کسی سے پوچھا اس کی