خطبات محمود (جلد 29) — Page 311
خطبات محمود 311 $1948 پھر تعلیم کا کام ہے وہ بھی بغیر روپیہ کے نہیں ہوسکتا۔پہلے زمانہ میں روپیہ کی بہت کم قیمت ہے تھی۔اُس زمانہ میں ایک پڑھا لکھا آدمی ایک جگہ پر بیٹھ جاتا تھا اور وہ دوسروں کو پڑھا دیا کرتا تھا۔وہ یہ کام مفت ہی کر دیا کرتا تھا۔ہاں تعلیم حاصل کرنے والے اُس کی تھوڑی بہت خدمت کر دیتے تھے۔لیکن اُس زمانہ میں اور اس زمانہ میں بہت فرق ہے۔اُس زمانے میں اگر ایسے آدمی کی بیوی کسی مجلس میں چلی جاتی تھی اور اُس کے پاس کپڑے اچھے نہیں ہوتے تھے تو اُسے اُس کا احساس نہیں ہوتا تھا کیونکہ اُس کے اور دوسری عورتوں کے کپڑوں میں کوئی فرق نہیں ہوتا تھا۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ امیر آدمی روپیہ سے اچھے لباس خرید سکتا ہے لیکن اُس وقت کپڑے ہوتے ہی نہیں تھے۔اُس زمانہ میں جو بھی کپڑے ہوتے تھے نہایت معمولی ہوتے تھے۔بہر حال جب وہ عورت اپنے ہمسایوں سے ملتی تھی تو اُس میں احساس ذلت پیدا نہیں ہوتا تھا۔وہ اپنے خاوند کے گلو گیر نہیں ہوتی تھی کہ اُس نے اپنے علم کو ضائع کر دیا۔مگر اب اتنا فرق پیدا ہو چکا ہے کہ اگر کوئی اپنے آپ کو دین کی خدمت کے لیے وقف کرے تو اُس کے بیوی بچے اُس کے گلے کا ہار بن جاتے ہیں کہ اُس نے انہیں ذلیل کروا دیا ہے۔وہ دوسروں میں ادنیٰ سمجھے جاتے ہیں۔خدا نے اسے علم دیا ہے اگر وہ آمدن پیدا کرتا تو وہ بھی دوسروں کے شانہ بشانہ بیٹھ سکتا تھا اور ہمیں بھی بٹھا سکتا تھا۔یہی حال باقی کاموں کا ہے۔میں نے جماعت کے دوستوں سے خصوصیت سے کہا تھا کہ ہم قادیان میں سلسلہ کی ساری جائیدادیں چھوڑ آئے ہیں۔اس لیے ان دنوں سلسلہ کو زیادہ امداد کی ضرورت ہے۔پھر ہم صرف سامان اور جائیدادیں ہی نہیں چھوڑ آئے بلکہ جماعت کے لاکھوں آدمی ایسے ہیں جو گزشتہ فسادات کی وجہ سے سلسلہ کی اتنی مدد نہیں کر سکتے جتنی وہ پہلے کر سکتے تھے۔پس یہ زمانہ ایسا ہے جس میں ہمیں زیادہ ہے قربانیاں کرنی ہوں گی۔اس لیے میں نے جماعت میں تحریک کی تھی کہ آئندہ چندہ کا معیار ساڑھے سولہ فیصدی سے تینتیس فیصدی تک کا ہو۔اور جو شخص ایسا کرنے کی مقدرت نہیں رکھتا اُس کے لیے چندہ کا کم سے کم معیار یہ ہو کہ وہ وصیت کر دے۔یا اگر وہ خیال کرتا ہے کہ وہ زیادہ دیر تک یہ قربانی نہیں کرسکتا کیونکہ وصیت کرنے کی صورت میں تو اُسے ساری عمر یہ چندہ دینا پڑے گا تو اُسے چاہیے کہ وہ وصیت کے معیار کے مطابق اتنے عرصے تک زیادہ چندہ ادا کرے۔مقبرہ بہشتی کے ہمارے ہاتھ سے نکل جانے کی وجہ سے یہ وقت ہمارے اخلاص کے امتحان کا