خطبات محمود (جلد 29)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 309 of 477

خطبات محمود (جلد 29) — Page 309

خطبات محمود 309 $1948 کوئی کہہ سکتا ہے کہ پہلے زمانے میں ایسا کیوں نہیں تھا ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ پہلے زمانہ میں ہے دشمن بھی کسی جگہ اتنی جلدی نہیں پہنچ سکتا تھا۔جتنی دیر ہمیں کسی جگہ پر پہنچنے میں لگ جاتی تھی اتنی دیر دشمن کو بھی لگ جاتی تھی۔اس زمانہ میں تو دشمن ہوائی جہاز ، ریل یالا ری وغیرہ سے فائدہ اُٹھا سکتا ہے اور ان چیزوں کی مدد سے جس جگہ چاہے جلد پہنچ سکتا ہے۔اگر ہمارا مبلغ پیدل جائے تو دشمن وہاں بہت عرصہ پہلے پہنچ چکا ہو گا۔پچھلے زمانہ میں اگر دشمن گھوڑے یا گدھے پر سوار ہو کر کسی جگہ پر پہنچتا تھا تو اس کے مقابلہ کے لیے دوسرے لوگ بھی گھوڑے یا گدھے پر سوار ہو کر اُس جگہ پہنچ جاتے تھے۔پس پہلا زمانہ ایسا تھا کہ اس میں تبلیغ کرنے کے لیے زیادہ روپیہ کی ضرورت نہیں ہوتی تھی۔اُس زمانہ کے حالات ایسے تھے کہ سفر بغیر روپیہ کے ہو سکتا تھا۔مگر اس زمانہ میں سفر بغیر روپیہ کے نہیں ہو سکتا۔فرض کرو ہمارے کسی مبلغ نے افریقہ یا امریکہ جانا ہے تو اس کے لیے جہاز کے کرائے اور دوسرے اخراجات کی ضرورت ہوگی۔کوئی کہہ سکتا ہے کہ کیا پہلے زمانہ میں ایسا نہیں ہوتا تھا؟ ہم کہتے ہیں پہلے تو امریکہ معلوم بھی نہیں تھا۔جتنی دنیا اس وقت معلوم تھی وہ بغیر سمندر کے تھی اور سفر کے لیے جہاز یا کشتی کی ضرورت نہیں پڑتی تھی۔خشکی کا سفر پیدل یا گھوڑوں اور گدھوں وغیرہ پر ہوتا تھا۔لیکن اس زمانہ میں سفر کرنے والا بعض اوقات سمندر میں سفر کرنے پر مجبور ہوتا ہے جس کے لیے اسے کرایہ کی ضرورت ہوتی ہے۔اُس زمانہ میں آبادی اور دنیا کا تمدن ایسا تھا کہ معلوم دنیا کے ہر گوشہ میں بغیر جہاز پاکشتی پہنچا جاسکتا تھا اور اس کے لیے روپیہ کی ضرورت نہیں ہوتی تھی۔مگر اب پہلے زمانہ کے تمدن اور اس زمانہ کے تمدن میں بہت فرق پیدا ہو چکا ہے۔پھر اُس زمانہ میں مہمان نوازی انسانیت اور شرافت کا جزو مجھی جاتی تھی۔اُس زمانہ میں اگر کوئی شخص کسی گاؤں میں چلا جاتا تھا تو خواہ وہ کسی کا واقف ہو یا نہ ہو سارے گاؤں کے لوگ اُس پر ٹوٹ پڑتے تھے اور اُسے کہتے تھے کہ تم ہمارے ہاں مہمان ٹھہر و۔جگہ جگہ سرائیں بنی ہوئی ہوتی تھیں جن میں مسافروں کی رہائش کا مفت انتظام ہوتا تھا۔کسی قسم کا خرچ نہیں آتا تھا۔اگر کوئی ایسا قصبہ ہوتا جس کے رہنے والوں میں مہمان نوازی کا جذ بہ نسبتا کم ہوتا تو پھر بھی مسافر کو کوئی تکلیف نہیں ہوتی تھی۔قصبہ میں ایسی سرائیں بنی ہوئی ہوتی تھیں جہاں چند آدمی بٹھائے ہوئے ہوتے تھے جو مسافر کی خدمت دو چار آنہ کے بدلے میں کر دیتے تھے۔باقی سرائے کا کوئی خرچ نہیں ہوتا تھا۔اب بھی ہندوستان میں سڑک کے کناروں پر جگہ جگہ سرائیں بنی ہوئی نظر آتی ہیں۔گو اب ویران ہیں۔ان میں