خطبات محمود (جلد 29) — Page 297
$1948 297 خطبات محمود جماعت کی تنظیم اور اس کے اثر کے نتیجہ میں بعض لوگ جماعت کا غلط استعمال کرنے لگ گئے ہیں اور ہر بات کو لے کر دوڑ پڑتے ہیں کہ اس کے متعلق فلاں کو کہیں کہ وہ ہماری سفارش کر دے ، فلاں کو کہیں کہ وہ ہماری سفارش کر دے۔میں نے بار بار توجہ دلائی ہے کہ ایسا مت کرو۔مگر توجہ دلانے کے سوامیں اور کر ہی کیا سکتا ہوں۔آخر یہ کوئی عمارت بنوانے کا تو سوال نہیں کہ میں جماعت سے دس ہزار روپیہ چندہ لے کر عمارت بنوا دوں۔یہ تو ایسا معاملہ ہے جو ہر فرد کے ساتھ تعلق رکھتا ہے۔اور فرد کی زبان کو روکنا میرے اختیار میں نہیں نہ اس کے دل کو کسی بات پر آمادہ کرنا میرے اختیار میں ہے۔اگر کسی شخص کے اپنے دل میں یہ خیال پیدا نہ ہو کہ اس قسم کی سفارشیں کرانا ایک ذلیل ترین ذہنیت کا مظاہرہ کرنا ہے تو میں اس کے متعلق کیا کر سکتا ہوں۔میں لوگوں کے ذہنوں میں تو گھس نہیں سکتا۔یہ کام تو اگر کوئی کرسکتا ہے تو خود وہی کر سکتا ہے۔یا اسی طرح مجھ میں یہ طاقت نہیں کہ میں اُس کی زبان پر بیٹھ جاؤں اور کہوں کہ تو یہ لفظ نہیں بول سکتا۔اس کا نتیجہ یہ ہے کہ بجائے تو کل علی اللہ پیدا ہونے کے جماعت کی ہنیت پست ہوتی چلی جاتی ہے اور بجائے خدا پر نظر پڑنے کے انسانوں پر نظر پڑنی شروع ہوگئی ہے۔اور ان کے معاملات اتنی اہمیت پکڑ جاتے ہیں کہ سمجھتے ہیں اس کے لیے اگر جماعت کے بڑے سے بڑے شخص کو بھی سفارش کے لیے جانا پڑے تو اس میں کوئی حرج کی بات نہیں۔مجھے یاد ہے ایک دفعہ ہماری مجلس شورای پر کھڑے ہو کر ایک شخص نے اپنے کسی ذاتی معاملہ کا ذکر کیا اور کہا کہ یہ معاملہ اتنا اہم ہے کہ میں سمجھتا ہوں اس کے لیے خلیفہ وقت کو خود گورنر کے دروازہ پر جا کر بیٹھ جانا چاہیے حالانکہ خلیفہ وقت چھوڑ ایک احمدی چوڑھے کو بھی ایسا نہیں کرنا چاہیے۔لیکن دنیا کو اتنی اہمیت دے دی گئی ہے اور دین کو اتنا ذلیل سمجھ لیا گیا ہے کہ تمام کاموں کے لیے دنیاوی کوششوں پر ہی انحصار رکھا جاتا ہے اور خدا تعالیٰ پر توکل اور اُس پر سچا ایمان دلوں میں سے اُڑتا چلا جا رہا ہے۔میں نے جماعت کو بار بار توجہ دلائی ہے کہ اس مشرکانہ طریق کو ترک کرو اور خالص اللہ تعالیٰ پر اپنی نگاہ رکھو لیکن بار بار توجہ دلانے کے باوجود ابھی تک جماعت کی توجہ اس طرف سے ہٹی نہیں اور اٹھتے بیٹھتے ، چلتے پھرتے ہفتوں اور مہینوں میں بیسیوں دفعہ لوگوں کی چٹھیاں آ جاتی ہیں کہ فلاں کام ایسا ہے جس کے لیے سفارش کی ضرورت ہے، فلاں شخص ایسا ہے جو ہمارا کام کر سکتا ہے اس کے پاس ہماری سفارش کر دی جائے۔میں دیکھتا ہوں کہ اس کے نتیجہ میں خدا تعالیٰ کی محبت دلوں میں سے کم ہوتی چلی جارہی