خطبات محمود (جلد 29)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 18 of 477

خطبات محمود (جلد 29) — Page 18

$1948 18 خطبات محمود کہیں کہ نماز خدا تک پہنچنے کا ذریعہ نہیں تو ہمارا اخلاقی فرض ہوگا کہ ہم ( نَعُوذُ بِاللہ) اسلام کو چھوڑ دیں۔پس ہماری جماعت کو چاہیے کہ وہ نماز کی پابندی کرے اور زیادہ سے زیادہ پابندی کرے۔اور ہم میں سے ہر احمدی کو چاہیے کہ وہ اپنی اولاد کو بھی نماز کی پابندی کے لیے مجبور کرے۔اسی طرح دوستوں کو بھی نماز کی پابندی کے لیے تلقین کی جائے۔اور نہ صرف فرض نمازوں کی پابندی کے لیے زور دیا جائے بلکہ نوافل پڑھنے پر بھی زور دیا جائے اور نوافل بھی رات کے نوافل۔اگر ہماری جماعت پوری طرح اس پر قائم ہو جائے تو اس کا قدم تیز تیز بڑھے گا اور وہ جلد سے جلد روحانیت کے بلند مقام پر پہنچ جائے گی۔ہر چیز کے ملنے کا ایک گر ہوتا ہے اور اسلام نے خدا کے ملنے کا گر نماز بتایا ہے۔نماز سے دوسرے درجہ پر اسلام نے زکوۃ کو رکھا ہے۔تیسرے درجہ پر روزہ کو رکھا ہے اور چوتھے درجہ پر حج کو رکھا ہے۔اگر ہم ان درجات پر غور کریں تو ہمیں اس سے عظیم الشان سبق حاصل ہوتا ہے۔دیکھ لو! نماز کا درجہ اول رکھا گیا ہے اور اگر اس کی اہمیت پر غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ انسان کی ذاتی اصلاح کے لیے ہے۔زکوۃ کا دوسرا درجہ ہے۔اگر اس کی اہمیت پر ہم غور کریں تو ہمیں معلوم ہوتا کہ یہ قومی اصلاح کے لیے ہے۔اگر روزہ کی اہمیت پر غور کریں تو یہ ذاتی اصلاح کے لیے معلوم ہوتا ہے۔اور اگر جج کی اہمیت پر غور کریں تو یہ قومی اصلاح کے لیے معلوم ہوتا ہے۔اس ترتیب سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ قومی اصلاح کبھی کامل نہیں ہوسکتی جب تک ذاتی اصلاح نہ کی جائے۔جولوگ کہتے ہیں کہ قومی اصلاح ذاتی اصلاح کے بغیر بھی ہو سکتی ہے وہ بالکل غلط کہتے ہیں۔کیونکہ ذاتی اصلاح پہلا قدم ہے اور قومی اصلاح دوسرا قدم۔اور کوئی شخص دوسرا قدم نہیں اٹھا سکتا جب تک وہ پہلا قدم نہ اٹھا لے۔جو شخص کہتا ہے کہ میں نے پہلا قدم اٹھائے بغیر دوسرا قدم اٹھا لیا ہے وہ پاگل ہے۔جس طرح پہلا قدم اٹھائے بغیر دوسرا نہیں اٹھایا جاسکتا۔اسی طرح قومی اصلاح کا کام مکمل نہیں ہو سکتا جب تک اس کے لیے پہلا قدم نہ اٹھا لیا جائے۔جو شخص زکوۃ تو ادا کرتا ہے مگر نماز نہیں پڑھتا اس کی اصلاح نامکمل ہے۔اور وہ مکمل نہیں ہوسکتی جب تک وہ زکوۃ سے پہلا قدم نہ اٹھا لے۔اسی طرح جو شخص زکوۃ اور نماز روزہ میں لگا رہا اور باوجود استطاعت کے اُس نے حج نہ کیا اُس نے بھی اپنی اصلاح کو مکمل نہیں کیا کیونکہ باوجود