خطبات محمود (جلد 29)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 254 of 477

خطبات محمود (جلد 29) — Page 254

$1948 254 خطبات محمود کہ جہاں سے بھی تم نکلو تم اپنے منہ مسجد حرام کی طرف کر لویا جہاں سے بھی تو نکلے تو اپنا منہ مسجد حرام کی طرف کر لے۔اب یہ تو ہر ایک شخص سمجھ سکتا ہے کہ چلتے وقت نماز نہیں پڑھی جاسکتی بلکہ نماز ٹھہر کر ہی پڑھی جاسکتی ہے۔ہاں اگر اس آیت کے یہ الفاظ ہوتے کہ حَيْثُمَا كُنْتَ فَوَلٌ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ تم جہاں کہیں بھی ہو تم اپنا منہ مسجد حرام کی طرف کر لو یا تو جہاں کہیں بھی ہو اپنا منہ مسجد حرام کی طرف کر لے تب تو یہ معنے صحیح ہو سکتے تھے۔لیکن یہ تو فرمایا گیا ہے مِنْ حَيْثُ خَرَجْتَ فَوَلِ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ يَا مِنْ حَيْثُ خَرَجْتُمْ یعنی اے محمد رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم یا اے مسلمانو! جہاں سے بھی تم نکلو تم اپنے منہ مسجد حرام کی طرف کر لو۔یہاں خروج کا لفظ استعمال کیا ہے جس کے معنے نکلنے کے ہیں۔اب یہ صاف بات ہے کہ نماز نکلتے وقت نہیں پڑھی جاتی بلکہ کسی جگہ ہوتے ہوئے نماز پڑھی جاتی ہے۔پس معلوم ہوا کہ یہاں نماز پڑھنے کے معنے کرنا درست نہیں۔چونکہ چلتے وقت نماز نہیں پڑھی جاتی اس لیے اس آیت کا یہ مفہوم نہیں کہ جب تم نماز پڑھو تو قبلہ کی طرف منہ کرلو بلکہ اس آیت میں اس طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا کے مستحق اور مور د ہیں۔جب آپ کو مکہ سے نکالا گیا اُس وقت دشمنانِ اسلام کو یہ اعتراض کرنے کا موقع ملا کہ جب آپ دعائے ابراہیمی کے موعود تھے اور خانہ کعبہ کے ساتھ آپ کا تعلق تھا تو آپ کو مکہ سے کیوں نکال دیا گیا؟ جب آپ کو مکہ سے نکال دیا گیا ہے تو آپ دعائے ابراہیم علیہ السلام کے کس طرح مستحق ہو سکتے ہیں؟ اس اعتراض کے جواب میں فرمایا مِنْ حَيْثُ خَرَجْتَ فَوَلِ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ یعنی اے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! تمہارا مکہ سے یہ نکلنا عارضی ہے۔ہم تم سے یہ وعدہ کرتے ہیں کہ ہم دوبارہ تمہیں موقع دیں گے اور تم ملکہ پر قابض ہو جاؤ گے۔لیکن جہاں اللہ تعالیٰ کے اپنے مومن بندوں سے رے ہوتے ہیں وہاں وہ اُن سے یہ امید کرتا ہے کہ وہ بھی اس وعدہ کو پورا کرنے کی کوشش کریں۔یہ نہیں کہ خدا تعالیٰ اُن سے وعدہ کر لے اور وہ ہاتھ پر ہاتھ دھر کر بیٹھ جائیں اور اس وعدہ کو پورا کرنے کی کوشش نہ کریں اور یہ سمجھ لیں کہ جب خدا تعالیٰ نے خود وعدہ کیا ہے تو وہ اسے پورا کرے ہمیں اس کے پورا کرنے کی کیا ضرورت ہے۔حضرت موسی علیہ السلام کی قوم کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے وعدہ کیا تھا کہ اسے کنعان کا ملک دہ وعد