خطبات محمود (جلد 29)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 242 of 477

خطبات محمود (جلد 29) — Page 242

$1948 242 خطبات محمود کریں اور اس کام کے لیے زیادہ سے زیادہ قربانی کا نمونہ دکھا ئیں۔یہی ایک صحیح رد عمل ہے اور یہی فطرت صحیحہ کے مطابق ہے اور اس میں حقیقی جرأت اور دلیری پائی جاتی ہے۔اس واقعہ کے بعد آپ کو چاہیے کہ اپنے اندر ایک خاص تبدیلی پیدا کریں اور وہ اس رنگ میں کہ آپ سمجھ لیں کہ جو کچھ کیا گیا ہے وہ اسی لیے کیا گیا ہے کہ آپ کے غیر بہت زیادہ تعداد میں تھے اور آپ بہت کم تھے۔اگر آپ بھی دس ہیں ہزار ہوتے تو انہیں ایسا کرنے کی جرات نہ ہوتی۔اگر ہماری جماعت کے لوگ تبلیغ میں سُست نہ ہوتے اور یہ لوگ جان لیتے کہ احمد بیت کیا ہے، اگر یہ لوگ جان لیتے کہ احمدیت کے ذریعہ ہی اسلام نے غالب آنا ہے تو احمدیت کے خلاف ان میں اتنا جوش کبھی نہ پایا جاتا۔اور پھر اگر جماعت صحیح رنگ میں تبلیغ کرتی تو اس کی تعداد بھی بڑھ جاتی۔بزدل ایسے لوگوں پر کبھی حملہ آور نہیں ہوتے جن کی تعداد زیادہ ہو۔بزدل ہمیشہ اُن لوگوں پر ہی حملہ کرتے ہیں جن کے متعلق وہ جانتے ہیں کہ وہ کمزور ہیں۔اور جب کسی جماعت کی تعداد زیادہ ہو جاتی ہے تو پھر بز دل ڈر جاتا ہے۔پس اگر صحیح طور پر تبلیغ ہوتی تو جماعت اب سے کئی گنا زیادہ ہوتی اور دشمن اس وقت تک مرعوب ہو چکا ہوتا۔جیسا کہ میں نے پہلے بھی بتایا تھا یہاں پورے طور پر تبلیغ نہیں کی گئی۔جس کا نتیجہ اب نظر آ گیا ہے۔جماعت کا ہر فرد اپنی اپنی جگہ پر بیٹھا ہوا ہے اور سمجھتا ہے کہ اللہ میاں خود ہی تبلیغ کریں گے۔یا اگر اُس نے چندہ دے دیا ہے تو گویا اُس نے اللہ تعالیٰ پر احسان کر دیا ہے۔مگر کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں صحابہ اتنا ہی وقت تبلیغ پر صرف کیا کرتے تھے جتنا تم کرتے ہو۔جب دشمن اعتراض کرتا ہے کہ اسلام تلوار کے ساتھ پھیلا ہے تو آپ لوگ یہی جواب دیتے ہیں کہ اسلام تلوار کی وجہ سے نہیں بلکہ تبلیغ کی وجہ سے پھیلا ہے۔تو کیا صحابہ تلوار کے علاوہ تبلیغ پر اتناہی وقت خرچ کرتے تھے جتنا آپ لوگ کرتے ہیں؟ اگر نہیں تو اس کے صاف معنے یہ ہیں کہ ہم اپنے فرض کو نہیں پہچانتے۔سو اس واقعہ کا صحیح رد عمل یہی ہے کہ آپ تبلیغ کو اور زیادہ تیز کر دیں۔مومن ڈرا نہیں کرتا۔آپ خدا تعالیٰ کا پیغام لوگوں تک پہنچائیں۔اگر آپ خدا تعالیٰ کا پیغام لوگوں تک پہنچائیں گے تو وہ احمدیت کی حقیقت کو پہچان لیں گے اور اُن کے دلوں سے خود بخود کینہ نکلتا جائے گا۔اور جب احمدیت کی اشاعت ہو جائے گی تو اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوگا کہ جہالت جاتی رہے گی اور ان لوگوں کو پتہ لگ جائے گا کہ احمدیت اسلام