خطبات محمود (جلد 29)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 198 of 477

خطبات محمود (جلد 29) — Page 198

$1948 198 خطبات محمود اور بزدل بہادری کے ہی غلط استعمال کا نام ہے۔ایک بزدل آدمی اپنی قوم کے خلاف جرات کرتا ہے، جی اپنی عزت و آبرو اور نیک نامی کی کوئی پروا نہیں کرتا۔اپنی ساری قوم کے ہوتے ہوئے بھاگنے کی کوشش کرتا ہے۔پس جب بُزدل بھی بہادر ہوتا ہے تو بہا در تو خود بہادر ہوتا ہے۔اگر اسے ٹریننگ دی جائے اور اس طرح ٹریننگ دی جائے کہ وہ دوسرے کو بھی ٹرینڈ کر سکے تو یہ قوم کے لیے بہت مفید ہو گا۔اب تو ہندوستان میں بھی بندوقیں بننے لگ گئی ہیں اور ایک نالی والی بندوق سو سوا سو تک مل جاتی ہے۔اکثر زمیندار بڑے شوق سے گھوڑیاں رکھتے ہیں۔اسی طرح اگر وہ کوشش کریں تو بندوق بھی خرید سکتے ہیں۔میں تو سمجھتا ہوں کہ اگر انہیں ٹریننگ دی جائے تو انہیں بندوق رکھنے کی خواہش بھی پیدا ہو جائے گی۔افسران متعلقہ سے تعلق پیدا کر کے لائسنس بنوائے جائیں۔سرحدی علاقوں کے لیے تو رائفلوں کی بہت زیادہ ضرورت ہے۔اس لیے سٹیوں کے افسروں کو چاہیے کہ وہ رائفلیں خریدیں۔رائفل ہندوستان میں ہزار بارہ سو کی آجاتی ہے اور اگر باہر سے منگوائی جائے تو اس پر چار پانچ سو سے زیادہ خرچ نہیں آتا۔اس زمین سے ہمیں پہلے بھی کچھ پلے نہیں پڑتا۔ہر سال یہی کہہ دیا جاتا ہے کہ اب معاف کر دو آئندہ کام اچھا ہو گا۔اس کے سوا اور کچھ نہیں ہوتا۔تحریک کی زمین پر 18 لاکھ سے زیادہ خرچ آچکا ہے لیکن حرام ہے کہ ایک پیسہ بھی تحریک کو حاصل ہوا ہو۔میرا بھی یہی حال ہے۔اب اگر رائفلیں اور بندوقیں خریدنے پر کچھ مزید خرچ کر لیا جائے تو کوئی حرج نہیں۔اگر اسلام کی عظمت قائم ہو جائے ، احمدیت کی عظمت قائم ہو جائے ، تمہاری جانیں بچ جائیں اور تمہاری آبروئیں اور عزتیں بچ جائیں تو یہ خرچ اس کے مقابلہ میں کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔اگر کوشش کی جائے تو یہ کام ہو سکتا ہے مگر جماعت نے اس طرف کوئی توجہ نہیں دی اور اس میں بہت سستی برتی ہے۔فی سٹیسٹ اگر دو یا دو سے زیادہ رائفلیں ہو جائیں تو پندرہ بیس رائفلیں ہو جاتی ہیں اور پھر ایک حد تک دشمن کا مقابلہ کیا جاسکتا ہے۔پندرہ میں رائفلوں کے ساتھ تین چارسو کا لشکر بڑی آسانی کے ساتھ روکا جاسکتا ہے۔پھر مومن اگر حقیقی مومن ہو تو دوسرے کی رائفل بھی چھین سکتا ہے۔کشمیریوں کو ہی دیکھ لو اُن کے پاس کوئی ہتھیار نہیں تھا جو کچھ بھی اُن کے پاس ہے انہوں نے دشمن سے ہی چھین کر لیا ہے۔مجھے ایک واقعہ یاد ہے کہ ایک جگہ پر کشمیریوں کی دشمن سے لڑائی ہوگئی۔دشمن پانچ رائفلیں چھوڑ کر بھاگ گیا اور وہ رائفلیں کشمیریوں کے ہاتھ آئیں۔اسی طرح کسی جگہ سے پانچ رائفلیں