خطبات محمود (جلد 29) — Page 142
خطبات محمود 142 روکیں گے اور کہیں گے کہ کیا صرف اکیلے تم پر مصیبت آئی ہے؟ یہ تو سب پر آتی ہے۔پس مرگ انبوه جشنی دارد $1948 قومیں جب مصیبت میں مبتلا ہوتی ہیں تو اُن کی غم کی کیفیتیں بدل جاتی ہیں اور اُن کے دکھ در د عام حالات سے بالکل مختلف ہو جاتے ہیں لیکن اس کے باوجود اس امر سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ عقل کا پہلو کسی وقت بھی ترک نہیں کیا جاسکتا۔ہماری عقل کہتی ہے کہ اس وقت اتنی بڑی مصیبت آئی ہے کہ جس کی مثال دنیا میں نہیں پائی جاتی۔یہاں تک کہ نوح کے وقت بھی وہ تباہی نہیں آئی جو آج آئی۔نوح کے وقت دنیا کی آبادی بہت کم تھی۔اس لحاظ سے جہاں طوفان سے بچنے والے قلیل لوگ تھے وہاں جولوگ طوفان سے تباہ ہوئے اُن کی تعداد بھی غیر معمولی طور پر زیادہ نہیں تھی۔نوح کی قوم جو اُن پر ایمان لائی پرانے زمانہ کی لکڑی کی ایک کشتی میں سوار ہوگئی تھی۔اس سے تم اندازہ لگا سکتے ہو کہ وہ لوگ کتنے تھے۔اور انہی پر قیاس کر کے باقی آبادی کا بھی اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔بے شک قرآن کریم نے نوٹح پر ایمان لانے والوں کے متعلق قلیل کا لفظ استعمال کیا ہے مگر قلیل اور کثیر میں کچھ تو نسبت ہوتی ہے۔اگر نوح پر ایمان لانے والے اور طوفان سے محفوظ رہنے والے افراد ہم ساٹھ ستر سمجھ لیں تو وہ لوگ جو تباہ ہوئے وہ زیادہ سے زیادہ چھ سات ہزار ہوں گے۔گویا ایک قصبہ بھی جو آج تباہ ہوا اُس کے مقابلہ میں نوح کے طوفان کی کوئی حیثیت نہیں رہتی۔لیکن قرآن کریم کو دیکھو تو وہ نوح کے طوفان کے ذکر سے بھرا پڑا ہے۔اسی طرح فرعون کا لشکر جو غرق ہوا اُس کی کتنی تعداد ہوگی ؟ زیادہ سے زیادہ آٹھ ہزار ہوگی۔مگر تمہارا تو پانچ لاکھ آدمی مشرقی پنجاب میں مارا گیا ہے اور ادھر بھی کچھ نہ کچھ سکھ اور ہندو مارا گیا ہے۔اگر دونوں کو ملا کر چھ سات لاکھ تعداد سمجھ لی جائے اور دو تین لاکھ جموں اور کشمیر کے لوگ سمجھ لیے جائیں تو یہ دس لاکھ تعداد بن جاتی ہے۔اگر اس میں وہ مسلمان بھی شامل کر لیے جائیں جو ہندوستان میں مارے گئے تو بارہ تیرہ لاکھ تعداد بن جاتی ہے۔اس کے مقابلہ میں بھلا نوح کے طوفان کی کیا نسبت ہے۔اور فرعون کے لشکر میں سے ڈوبنے والوں کی تباہی اس کے مقابلہ میں کیا حقیقت رکھتی ہے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ جنگ عظیم میں بھی بہت لوگ تباہ ہوئے۔دس گیارہ لاکھ جرمن مارا گیا۔چار پانچ لاکھ جاپانی مارا گیا۔جاپانی نسبتا کم مارے گئے کیونکہ انہوں نے جلد ہی ہتھیار ڈال دیئے