خطبات محمود (جلد 29)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 96 of 477

خطبات محمود (جلد 29) — Page 96

$1948 96 خطبات محمود جماعت اب ان راستوں پر نہیں چل سکتی جن پر وہ پہلے چلا کرتی تھی۔بلکہ اب اسے وہ راستہ اختیار کرنا پڑے گا جو قربانی اور ایثار کا راستہ ہے اور جس پر چلے بغیر آج تک کوئی قوم بھی کامیاب نہیں ہوئی۔ہندوستان میں احمدیوں کی آبادی کا زیادہ تر حصہ بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ ستر فیصدی حصہ پنجاب میں تھا۔اب چونکہ مشرقی پنجاب کے مسلمان بھی ادھر آچکے ہیں۔اس لیے اب اسی فیصدی بلکہ اس سے بھی زیادہ حصہ ہماری جماعت کے افراد کا پاکستان میں آچکا ہے اور بوجہ آزاد گورنمنٹ کا ایک حصہ ہونے کے ان پر بھی ویسی ہی ذمہ داریاں عائد ہیں جیسی آزاد قوموں پر عائد ہوتی ہیں۔یہ امر ظاہر ہے کہ آزاد قوموں کو جنگ بھی کرنی پڑتی ہے۔یہ تو نہیں کہ جنگ کے اعلان پر وزیر جا کر لڑا کرتے ہیں یا سیکرٹری جا کر لڑا کرتے ہیں۔بہر حال افراد ہی لڑا کرتے ہیں۔اور اگر کسی ملک کے افراد اپنی ذمہ داری کو نہ سمجھیں تو جنگ میں وہ کبھی کامیاب نہیں ہو سکتے۔جنگ میں کامیابی حاصل کرنے کے لیے سب سے زیادہ ضروری امر یہ ہوتا ہے کہ افراد میں قومیت کا احساس ہو۔اگر لڑنے والے افراد میں قومیت کا احساس نہیں ہوگا تو لازماً ان میں کمزوری پیدا ہوگی اور یہ کمزوری اُن کی کامیابی میں حائل ہو جائے گی۔پس بوجہ اس کے کہ اسی بلکہ پچاسی فیصدی احمدی آزاد اسلامی حکومت میں آگئے ہیں ان کا فرض ہے کہ اب وہ پورے طور پر اپنے اندر تغیر پیدا کریں تا کہ اگر ملک اور قوم کے لیے کوئی خطرہ در پیش ہو تو وہ اُس وقت قربانی اور ایثار کا نمونہ دکھا سکیں اور اس طرح ملک کی کامیابی کی صورت پیدا کر دیں۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ملکی دفاع کے لیے ہر فرد پر ذمہ داری ہوتی ہے۔مگر اس میں بھی کوئی شبہ نہیں کہ بعض بعض انسانوں اور جماعتوں کو لیڈر بنے کی توفیق عطا کی جاتی ہے۔اگر لیڈر آگے آجاتے ہے ہیں تو ساری قوم اُن کے پیچھے چل پڑتی ہے۔اور اگر لیڈر آگے نہیں آتے تو قوم میں سستی پیدا ہو جاتی ہے۔یہ لیڈر بعض دفعہ افراد ہوتے ہیں اور بعض دفعہ قو میں ہوتی ہیں۔وہ تو میں ایسی حیثیت اختیار کر لیتی ہیں کہ لوگ ہر اہم موقع پر اُن کی طرف دیکھتے ہیں اور یہ معلوم کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ وہ کیا کر رہی ہیں۔ہماری جماعت کی بھی خواہ لوگ کتنی مخالفت کریں اسے ایسی پوزیشن ضرور حاصل ہوگئی ہے کہ لوگ ہماری جماعت کی طرف دیکھتے ہیں اور وہ اس جستجو میں رہتے ہیں کہ یہ لوگ کیا کر رہے ہیں۔اگر آئندہ آنے والے خطرات کا مقابلہ کرنے کے لئے ہماری جماعت ہر وقت آمادہ رہے گی اور