خطبات محمود (جلد 28) — Page 63
خطبات محمود 63 80 سال 1947ء ہے۔وہ غلطیوں اور کوتاہیوں کو معاف کر سکتا ہے اس لئے ہر بات کا اعلان ضروری نہیں۔ہاں جو چی بات تم سے قاضی پوچھے وہ تم بیان کر دو۔اگر تم کو شریعت کے احکام کا علم ہو جائے تو تمہارے لئے سچ بولنا کوئی مشکل نہ رہے۔مثلاً کوئی شخص تم سے پوچھتا ہے کہ تم فلاں جگہ گئے ؟ اور تم نہیں بتانا چاہتے تو جھوٹ نہ بولو۔اُس سے کہہ دو کہ میں نہیں بتانا چاہتا۔اسی طرح شریعت نے بے شک قاضی کو سوال کرنے کا حق دیا ہے لیکن بعض باتیں ایسی ہیں جن میں قاضی کو بھی سوال کرنے کا حق نہیں ہوتا۔مثلاً شریعت کہتی ہے کہ بدکاری کے جب تک چار گواہ نہ ہوں اُس وقت تک اُن کی گواہی قبول نہ کی جائے۔لیکن کسی موقع پر کوئی شخص اکیلا گواہ ہے اور معاملہ کسی طرح قاضی کے پاس پہنچتا ہے اور قاضی اُس کو گواہی کے لئے بلاتا ہے تو وہ قاضی کو کہہ سکتا ہے کہ میں نے دیکھایا نہیں دیکھا اِس کا سوال نہیں۔آپ کو گواہی لینے کا حق نہیں جب تک کہ چار گواہ نہ ہوں۔غرض اس صورت میں شریعت قاضی کو مجرم ٹھہراتی ہے کہ اُس نے اُس سے کیوں شہادت طلب کی۔اور اُس شخص نے شریعت کی ہتک نہیں کی بلکہ قاضی نے شریعت کی ہتک کی ہے کہ صرف ایک آدمی کی سے گواہی مانگی۔پس شریعت کے مسائل کو سمجھو اور سچ کو اپنا شعار بناؤ۔جب دنیا پر ثابت ہو جائے گا کہ تم سچ بولتے ہو تو تمہارا مظلوم ہونا دنیا پر روزِ روشن کی طرح ظاہر ہو جائے گا اور دنیا تمہاری طرف خود بخود مائل ہو جائے گی۔اگر تمہارا ایک آدمی ایک طرف ہوگا اور ہزار آدمی ایک طرف ہوگا تو بھی دنیا یہ کہے گی کہ جو بات یہ ایک آدمی کہتا ہے وہ صحیح ہے اور جو بات یہ ہزار آدمی کہتا ہے وہ غلط ہے۔شملہ میں ایک انگریز افسر تھا۔اُس کے میرے ساتھ کچھ تعلقات ہو گئے اور وہ مجھ سے ملتا رہتا تھا۔اس طرح اُسے ہماری جماعت کے متعلق یہ معلوم ہو گیا کہ یہ لوگ سچ بولتے ہیں۔میرا ایک عزیز جو فوج میں ملازم تھا اُس کا افسر اُس پر خفا ہو گیا۔اور اُس کے خلاف گورنمنٹ کے پاس رپورٹ کی اور اُس کی ملازمت خطرہ میں پڑ گئی۔اُس نے شرم کے مارے مجھے نہ اطلاع دی۔جب مجھے اس معاملہ کا علم ہوا تو میں نے اُس انگریز سیکرٹری کو کہلا بھیجا کہ اصل میں واقعات اِس طرح ہیں۔میں نے تحقیقات کرلی ہے۔میں یہ نہیں چاہتا کہ ناجائز طور پر اس کی مدد کی جائے۔اگر اس کا قصور ثابت ہو جائے تو بے شک اسے سزا دی جائے۔لیکن میری تحقیق سے اس کا قصور ثابت نہیں ہوتا۔آپ مہربانی کر کے اس کے بالا افسر سے اتنا کہہ دیں کہ جب وہ فیصلہ کرے تو