خطبات محمود (جلد 28) — Page 38
خطبات محمود 88 38 سال 1947ء کافی جگہ ہونی چاہیے تا کہ جو مکانات بہنیں وہ صحت افزا ہوں اور لوگوں کو بیماریوں میں مبتلا کرنے والے نہ ہوں۔میں نے آج سے کئی سال پہلے اس بارہ میں اعلان بھی کیا تھا مگر میرے اُس اعلان کو مدنظر نہیں رکھا گیا۔میں نے آج سے نو سال پہلے یہ اعلان کیا تھا کہ:۔آئندہ محلوں کی اندرونی گلیاں ہیں فٹ سے کم نہ ہوں۔محلہ کے اردگرد سے گزرنے والی سڑک ساٹھ فٹ اور درمیان سے گزرنے والی پچاس فٹ سے کم نہ ہو۔جب مکان بنانے کے لئے کوئی زمین خریدی جائے تو امور عامہ خیال رکھے کہ سڑکوں اور گلیوں کے لئے مقررہ فراخی کے مطابق زمین چھوڑی جائے۔2 میں سمجھتا ہوں اگر اس اعلان کے مطابق پچاس فٹ کی اندرونی اور ساٹھ فٹ کی بیرونی سڑک رکھی جائے اور ہمیں چھپیں یا تمہیں فٹ کی گلی رکھی جائے تب لوگوں کی صحتیں درست رہ سکتی ہے ہیں۔ورنہ نہیں۔کیونکہ جتنا بڑا شہر بنتا جائے اُتنے ہی سانس بڑھتے چلے جاتے ہیں اور بیماریوں میں ترقی ہوتی جاتی ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں جب موٹر گاڑیاں نہیں ہوتی تھیں دس فٹ کی گلی چھوڑنے کا حکم تھا 3۔اس سے قیاس کرلو کہ جہاں گھوڑوں اور گدھوں وغیرہ کو مد نظر رکھتے ہوئے دس فٹ گلی رکھنے کا حکم دیا گیا تھا وہاں آجکل کے زمانہ میں جبکہ موٹریں کی کثرت سے چلتی ہیں یقینا تمیں فٹ کی گلی ہونی چاہئیے اور سڑک تو پچاس ساٹھ بلکہ ستر فٹ کی ہونی چاہیے۔کیونکہ یہ زمانہ گھوڑوں اور گدھوں کا نہیں بلکہ موٹروں اور ٹانگوں اور گڈوں کا ہے۔میں دیکھتا ہوں کہ بعض دفعہ سامان سے لدا ہوا گڈا اگر سڑک پر سے گزرنے لگے تو بارہ تیرہ فٹ جگہ گھیر لیتا ہے۔اگر دو گڈے آمنے سامنے آجائیں تو اُن کے گزارنے کے لئے چوبیس پچھیں تھی فٹ جگہ چاہئیے اور اگر ایک دوفٹ راستہ ان دونوں کے درمیان چھوڑ دیا جائے تو تمیں فٹ جگہ ہونی چاہئیے۔پھر ان کے ارد گر د پیدل چلنے والوں کے لئے بھی چھپیں تھیں فٹ جگہ چاہئیے۔مگر افسوس ہے کہ زمینیں بیچنے والوں نے اس طرف توجہ ہی نہیں کی۔نتیجہ یہ ہوا ہے کہ لوگوں نے ایسے ایسے ٹکڑے خرید لئے ہیں جن میں گلیوں اور سڑکوں کے لئے راستے ہی نہیں۔اس سے لوگوں کی صحتیں بھی خراب ہونگی ، شہر کی خوبصورتی کو بھی نقصان پہنچے گا اور آنے والے لوگوں پر بھی بُرا اثر پڑے گا۔میں نے پہلے بھی کئی دفعہ سنایا ہے کہ ایک دفعہ امریکہ سے ڈاکٹر ز دیمر 4 آئے اور وہ